گرمی کی شدید لہر سے کیسے بچیں؟ ماہرین نے آسان حل بتا دیے
ملک کے بیشتر حصے شدید گرمی اور خشک موسم کی لپیٹ میں ہیں۔ جبکہ کراچی میں گرمی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہرِ قائد میں درجہ حرارت 40 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔
موسم کی بدلتی صورتحال اور گرمی کی انتہا نے انسانی صحت کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ملک میں موسم اب پہلے جیسا نہیں رہا بلکہ یہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جہاں پہلے سے زیادہ سخت گرمیاں طویل ہیٹ ویوز کی صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کرتی ہے، جن میں دماغ، دل، ہارمونز اور ذہنی صحت شامل ہیں۔
دماغی صحت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کا انحصار خون کے بہاؤ، آکسیجن اور سیال مادوں کے توازن پر ہوتا ہے۔ پانی کی کمی سے خون کی گردش کم ہو جاتی ہے جس سے سر درد، چکر آنا اور تھکاوٹ جیسی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔
ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ پیاس نہ لگنے کی صورت میں بھی باقاعدگی سے پانی پئیں اور زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں نمکیات کا استعمال کریں۔
دل کی صحت کے بارے میں امراض قلب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد اور گرم دونوں موسم دل پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صحت مند غذا اور باقاعدہ ورزش دل کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے، جس سے نہ صرف ذیابیطس اور بلڈ پریشر بلکہ دل کے مسائل کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز اور ذہنی تناؤ کو کم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
ناک، کان اور گلے کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی جسم کے دفاعی نظام کو کمزور کر سکتی ہے جس سے وائرس اور بیکٹیریا آسانی سے حملہ آور ہوتے ہیں۔
ان کا مشورہ ہے کہ دوپہر کی شدید گرمی میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور بیماری کی صورت میں خود سے اینٹی بائیوٹکس لینے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ہارمونز کے نظام پر گرمی کے اثرات کے حوالے سے ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ شدید گرمی جسم میں اسٹریس ہارمونز کو بڑھا دیتی ہے جس سے چڑچڑاپن اور تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ گرمی میں شوگر لیول متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے شوگر لیول کی بار بار جانچ کریں اور انسولین کو ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔
ذہنی صحت کے بارے میں ماہر نفسیات کہتے ہیں۔ شدید گرمی جذباتی توازن کو متاثر کرتی ہے، جس سے نیند اور بھوک میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے کام ٹھنڈے اوقات میں مکمل کریں، بھرپور نیند لیں اور اپنی پریشانیاں دوسروں کے ساتھ بانٹیں۔
ماہرین کے مطابق طرز زندگی میں چھوٹی تبدیلیاں اور پانی کا زیادہ استعمال ان موسمی خطرات سے بچنے کا بہترین حل ہے۔
















