سوئمنگ کے دوران آنکھوں کا انفیکشن، بچنے کے آسان طریقے

گرمیوں کا لطف اٹھائیں مگر آنکھوں کی صحت پر سمجھوتہ نہ کریں۔
شائع 01 مئ 2026 03:15pm

گرمی کی شدت بڑھتے ہی عوام کی بڑی تعداد نے سوئمنگ پولز کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے بغیر تیراکی آنکھوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

گرمیوں کی تپش سے بچنے کے لیے سوئمنگ پول کا رخ کرنا ایک بہترین تفریح ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پول کا پانی آپ کی بینائی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے؟ ماہرین امراضِ چشم کے مطابق، پول میں موجود کلورین اور جراثیم آنکھوں میں سرخی، خارش اور انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ آنکھوں کی جلن صرف کلورین کی وجہ سے ہوتی ہے، لیکن حالیہ طبی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پول کے پانی میں پی ایچ لیول کا توازن بگڑنا اصل وجہ بنتا ہے۔ اگر پانی زیادہ تیزابی ہو جائے تو یہ آنکھوں کے قدرتی حفاظتی آنسوؤں کی تہہ کو ختم کر دیتا ہے، جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

ماہرین کا کہنا ہے کہ چند آسان تدابیر اختیار کر کے آنکھوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

سوئمنگ سے پہلے غسل ضروری ہے

پول میں جانے سے پہلے صاف پانی سے نہانا انتہائی ضروری ہے۔ اس سے چہرے پر موجود تیل، کریم یا لوشن صاف ہو جاتے ہیں۔ چہرے پر لگی کریم یا لوشن جب کلورین سے ملتے ہیں تو ایسے کیمیکلز بناتے ہیں جو آنکھوں میں شدید چبھن کا باعث بنتے ہیں۔ شاور لینے سے یہ خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

معیاری گوگلز کا استعمال

پانی کے اندر آنکھوں کو براہِ راست رابطے سے بچانے کے لیے اچھی فٹنگ والے چشمے پہنیں۔ ایسے گوگلز کا انتخاب کریں جو آنکھوں پر اچھی طرح فٹ ہوں اور پانی اندر نہ جانے دیں۔ اینٹی فوگ اور اینٹی گلیئر چشمے پانی کے اندر صاف دیکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

کونٹیکٹ لینز اتار دیں

سوئمنگ کے دوران لینز ہرگز نہ پہنیں۔ پانی میں موجود بیکٹیریا لینز کے نیچے پھنس کر کارنیا کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس سے بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ متبادل کے طور پر نمبر والے گوگلز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ہائیڈریشن اور دھوپ کا چشمہ

تیراکی کے دوران جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں، کیونکہ پانی کی کمی سے آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ پول سے باہر نکلنے پر یو وی پروٹیکشن والے سن گلاسز پہنیں تاکہ سورج کی شعاعوں کے انعکاس سے بچا جا سکے۔

پول سے واپسی پر کیا کریں؟

پول سے نکلنے کے بعد فوری طور پر صاف اور ٹھنڈے پانی سے آنکھوں کو دھوئیں۔ اس سے کلورین اور دیگر کیمیکلز صاف ہو جاتے ہیں۔ اگر جلن برقرار رہے تو ڈاکٹر کے مشورے سے آئی ڈراپس استعمال کریں۔

یاد رکھیں، آنکھوں کو رگڑنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے خراشیں پڑ سکتی ہیں اور انفیکشن پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس کی جگہ ٹھنڈے پانی کا استعمال زیادہ محفوظ ہے

بچوں کی آنکھیں انتہائی حساس ہوتی ہیں، اس لیے والدین اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے پانی کے اندر آنکھیں نہ کھولیں اور ہمیشہ معیاری گوگلز استعمال کریں۔

گرمیوں کا لطف اٹھائیں مگر آنکھوں کی صحت پر سمجھوتہ نہ کریں۔ ان سادہ احتیاطی تدابیر کو اپنا کر آپ اپنی بینائی کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔