ایران کا زیادہ تر افزوده یورینیم اب بھی اصفہان میں ہے، سربراہ آئی اے ای اے کا دعویٰ

ایران کے پاس 440 کلو گرام کا 60 فیصد افزودہ یورینیم ہے، رافیل گروسی
شائع 01 مئ 2026 01:06pm

عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے زیادہ تر افزودہ یورینیم اصفہان کے جوہری مرکز میں موجود ہونے کا امکان ہے، جبکہ نطنز اور فردو تنصیبات کے بھی فوری معائنے کی ضرورت ہے۔

رافیل گروسی کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلو گرام 60 فیصد تک افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں سے اندازاً 200 کلو گرام اصفہان کے زیر زمین حصوں یا سرنگوں میں محفوظ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں نطنز اور فردو جیسے اہم جوہری مراکز کا معائنہ بھی ناگزیر ہے تاکہ مکمل شفافیت حاصل کی جا سکے۔

گروسی کے مطابق عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے امکانات پر روس اور دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت کی ہے، تاہم انہوں نے اس عمل کو پیچیدہ اور حساس قرار دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انکشاف کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی اور سفارتی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ مستقبل میں مذاکرات کی اہمیت بھی نمایاں ہو گئی ہے۔