جم میں ورزش کے دوران نوجوان فالج کا شکار، وجوہات اور بچاؤ کی تدابیر جانیے

ورزش اچھی چیز ہے، لیکن حد سے زیادہ ورزش نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔
شائع 26 اپريل 2026 12:31pm

زیادہ ورزش کرنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ناگپور سے سامنے آنے والے ایک واقعے نے فٹنس کے شوقین افراد کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایک 23 سالہ نوجوان، جو جم میں سخت ورزش کا عادی تھا، دماغی شریان پھٹنے کے باعث فالج کا شکار ہو گیا۔ اگرچہ خوش قسمتی سے بروقت طبی امداد ملنے سے اس کی جان بچ گئی، لیکن یہ واقعہ اس بات کی وارننگ ہے کہ ورزش اچھی چیز ہے، لیکن حد سے زیادہ ورزش نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ماہرِ اعصاب ڈاکٹر ونیت بنگا کہتی ہیں، انسانی جسم میں برداشت کی ایک قدرتی حد ہوتی ہے جس کا احترام کرنا لازم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب ورزش کے دوران جسم کو اس کی برداشت سے زیادہ دباؤ میں ڈالا جائے اور آرام کا موقع نہ دیا جائے تو دماغ اور جسم دونوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

طبی ماہرین بتاتے ہیں کہ ورزش دراصل جسم پر ایک ’کنٹرولڈ اسٹریس‘ ڈالتی ہے تاکہ وہ مضبوط بنے۔ لیکن اگر یہ دباؤ مسلسل ہو اور آرام کے بغیر بڑھتا رہے، تو جسم کی مرمت کا نظام رک جاتا ہے۔

پٹھوں میں مستقل چوٹیں اور ہارمونی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ مدافعتی نظام کمزور ہونے سے بیماریاں جلد حملہ آور ہوتی ہیں۔

اوور ٹریننگ کا اثر صرف پٹھوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ دماغ بھی اس کی زد میں آتا ہے۔ شدید ورزش اور آرام کی کمی سے ’کورٹیسول‘ جیسے اسٹریس ہارمونز بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان ہر وقت تھکا ہوا محسوس کرتا ہے اور ورزش کا جذبہ ختم ہونے لگتا ہے۔ چڑچڑاپن، بے چینی اور نیند کے نظام میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔

کچھ صورتوں میں بہت زیادہ ورزش، پانی کی کمی اور بلڈ پریشر کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے دماغی بیماری جیسے برین ہیمبرج کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، جو فالج یا دوسرے شدید مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق ایک اور مسئلہ ’اوورٹریننگ سنڈروم‘ ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں کارکردگی بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہونے لگتی ہے۔ اس میں انسان مسلسل تھکا ہوا رہتا ہے، نیند خراب ہو جاتی ہے، توجہ کم ہو جاتی ہے اور جسم کمزور محسوس ہوتا ہے۔

اس سے نجات کے لیے محض چند دن نہیں بلکہ طویل آرام اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کی ضرورت پڑتی ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اصل بہتری ورزش کے دوران نہیں بلکہ ریکوری (آرام) کے وقت آتی ہے۔

ایک صحت مند فٹنس روٹین کے لیے درج ذیل اصول اپنائیں۔

مناسب نیند: روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کو یقینی بنائیں۔

غذا اور پانی: ٹشوز کی مرمت کے لیے بھرپور غذا اور پانی کا استعمال کریں۔

جسم کی پکار سنیں: اگر جسم مسلسل تھکن، نیند کی خرابی یا غیر معمولی کمزوری کے اشارے دے، تو فوراً ورزش کا بوجھ کم کر دیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فٹنس کا مطلب زیادہ ورزش نہیں بلکہ متوازن زندگی ہے۔ بہتر صحت کے لیے ورزش، آرام، اچھی خوراک اور ذہنی سکون سب کا توازن ضروری ہے۔