بلڈ شوگر کم ہونے پر دماغ میں گلوکوز کی کمی کی علامات
اکثر لوگ خون میں شوگر کی کمی (ہائپو گلیسیمیا) کو محض عارضی تھکن یا نقاہت سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ لاپرواہی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
انسانی دماغ اپنی توانائی کے لیے گلوکوز پر پوری طرح انحصار کرتا ہے۔ جب جسم میں گلوکوز کی سطح خطرناک حد تک گر جاتی ہے تو دماغ، متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے، دماغی خلیات مفلوج ہونے لگتے ہیں اور بعض اوقات دورے بھی پڑ سکتے ہیں۔
ماہرِ اعصاب ڈاکٹر سری لکشمی کے مطابق، جسم کے دیگر اعضاء کے برعکس دماغ گلوکوز کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جیسے ہی شوگر لیول گرتا ہے، دماغی سگنلز درہم برہم ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دورے، بے ہوشی یا جسم میں کپکپی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ حالت زیادہ دیر تک برقرار رہے تو مستقل دماغی نقصان کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔
ابتدائی علامات میں چکر آنا، الجھن، دھندلا نظر آنا، غیر معمولی رویہ اور شدید بھوک شامل ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت علاج نہ ملے تو مریض بے ہوش ہو سکتا ہے یا اسے شدید جھٹکے لگ سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق اس کیفیت کے خطرات ان افراد میں زیادہ ہوتے ہیں جو ذیابیطس کے مریض ہوں، نومولود بچے ہوں یا گردے اور جگر کے مریض ہوں۔ بعض صورتوں میں علامات اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ مریض یا اہل خانہ انہیں پہچان نہیں پاتے، جس سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
شیر خوار بچوں میں شوگر کی کمی کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ان میں یہ دورے صرف آنکھوں کے غیر معمولی طور پر پھرنے یا بار بار منہ چلانے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق خون میں شکر کی خطرناک کمی عموماً ادویات اور خوراک کے درمیان عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں انسولین کی غلط مقدار لینا یا اسے غلط وقت پر استعمال کرنا، انسولین لینے کے بعد کھانا چھوڑ دینا یا تاخیر کرنا شامل ہے۔
اسی طرح خالی پیٹ سخت جسمانی مشقت یا الکحل کا استعمال بھی خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے کم کر سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ گردوں کے دائمی امراض میں مبتلا مریضوں میں ادویات جسم میں زیادہ دیر تک موجود رہتی ہیں، جس کی وجہ سے شوگر گرنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
عالمی طبی گائیڈ لائنز کے مطابق اگر خون میں شوگر کی سطح کم ہونے لگے تو فوری طور پر“15-15 اصول“ پر عمل کرنا چاہیے۔ اس طریقے کے تحت مریض کو فوراً 15 گرام سادہ کاربوہائیڈریٹ لینا ہوتا ہے، جیسے تقریباً 3 چمچ گلوکوز پاؤڈر، آدھا کپ پھلوں کا رس یا 1 چمچ شہد۔ اس کے بعد 15 منٹ انتظار کر کے دوبارہ بلڈ شوگر چیک کی جاتی ہے۔
اگر اس وقت بھی شوگر کی سطح 70 mg/dL سے کم رہے تو یہی عمل دوبارہ دہرایا جاتا ہے تاکہ خطرناک کمی کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ ہائی رسک مریضوں کو ہمیشہ اپنے پاس ’گلوکوز ٹیبلٹس‘ یا چینی رکھنی چاہیے۔
گلوکومیٹر اور گلوکوز پاؤڈر کو فرسٹ ایڈ کٹ کا لازمی حصہ بنائیں۔
اگر مریض بے ہوش ہو جائے تو اسے زبردستی کچھ کھلانے کی کوشش نہ کریں (اس سے دم گھٹ سکتا ہے)، بلکہ فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کریں تاکہ اسے ڈرپ کے ذریعے گلوکوز دیا جا سکے۔
اس کے علاوہ مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ باقاعدہ خوراک، ادویات کے درست استعمال اور بلڈ شوگر کی نگرانی کو معمول بنائیں تاکہ ایسے خطرناک حالات سے بچا جا سکے۔
یاد رکھیں: مسلسل گلوکوز مانیٹرنگ آلات اور بروقت آگاہی کے ذریعے ان جان لیوا دوروں سے سو فیصد بچاؤ ممکن ہے۔
اپنی خوراک کے اوقات اور ادویات کی مقدار میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔
















