’امریکا تیار، ایران کا انکار‘: اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں جاری

امریکا کے غیر حقیقی مطالبات، مؤقف میں مسلسل تبدیلی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں: ایران
اپ ڈیٹ 20 اپريل 2026 12:49am

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے متوقع دوسرے مرحلے کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کردیے گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی نمائندوں کی پیر کے روز پاکستان روانگی کے بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے امریکی میڈیا کو تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے، تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے حوالے سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق ایران نے امریکا کے غیر حقیقی مطالبات، مؤقف میں مسلسل تبدیلی کو مذاکرات میں پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکا کی جانب سے جاری بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایران نے ابھی تک مذاکراتی وفد کو اسلام آباد روانہ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی نافذ رہے گی، کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود یہ اعلان کرچکے ہیں ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی نمائندے پیر کی شام اسلام آباد روانہ ہوں گے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس وفد میں کون کون شامل ہوگا۔

ابتدائی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جے ڈی وینس اسلام آباد نہیں جائیں گے کیونکہ سیکرٹ سروس کو انتظامات کے لیے وقت درکار ہے۔ تاہم اسی دوران امریکی انتظامیہ کے دیگر عہدیدار مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ نائب صدر مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے کی تصدیق کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد کا حصہ ہوں گے، یہ تینوں شخصیات اس سے قبل مذاکرات کے پہلے دور میں بھی شریک تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں صدر ٹرمپ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو امریکا واپس جانا پڑے گا۔ جس کی وجہ امریکی سیکرٹ سروس کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت صدر اور نائب صدر کو بیک وقت ایک ہی مقام پر رکھنے سے گریز کیا جاتا ہے، یہی اصول اندرونِ ملک سفر کے دوران بھی لاگو ہوتا ہے۔

سفارتی حلقوں نے امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کے لیے وفد کی روانگی کے اعلان کے باوجود دوسرے فریق کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کو غیر معمولی واقعہ قرار ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان میں عندیہ دیا تھا کہ یہ تنازع تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ایران نے امریکا کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے ہیں جب کہ ایران کو اپنی شرائط منوانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے، تاہم ایرانی اعلیٰ قیادت نے اس بیان کو جھوٹ قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے متضاد بیانات اور ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کے باوجود اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے لیے بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔

الجزیرہ نے اپنی بھی ایک رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ مختلف زمینی حقائق اور حالیہ سرگرمیوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اتوار کو امریکی فضائیہ کے دو کارگو طیاروں نے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ کیا جب کہ ایئرپورٹ سے ریڈ زون تک جانے والی سڑکوں کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

اتوار کے روز اسلام آباد اور اطراف میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات نظر آئے، جس کے تحت شہر کے اہم ہوٹلوں میں جمعہ تک بکنگ بند کردی گئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی دارالحکومت اور اطراف میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی آمدورفت محدود کردی گئی ہے، جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں ہوا تھا، جس کے بعد اب ان غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کو ممکنہ دوسرے دور کی تیاریاں قرار دیا جارہا ہے۔

ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ اہم شاہراہوں کے اطراف پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو بھی رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے لیے شہر میں تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گے۔