پاکستان نے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی

آسٹریلیا کا 158 رنز کا ہدف پاکستان ٹیم نے 42 ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔
اپ ڈیٹ 05 جون 2026 12:01am

تیسرے اور آخری ون ڈے میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی ہے۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تین میچوں کی سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میں آسٹریلوی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 42 اوورز میں 157 رنز بناکر ڈھیر ہوگئی تاہم پاکستان نے 158 رنز کا ہدف 42 ویں اوورمیں 6 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

آسٹریلیا کی بیٹنگ

آسٹریلوی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو درست ثابت نہ ہوا، پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو بڑا اسکور کرنے سے روک دیا۔

آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن پاکستانی بولرز کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں۔ آسٹریلوی کپتان جوش انگلس نے تھوڑی بہت مزاحمت کرتے ہوئے 65 رنز کی اننگز کھیلی تاہم وہ بھی ٹیم کو بڑے اسکور تک پہنچانے میں ناکام رہے۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا کے دیگر بلے بازوں میں مارنس لبوشین، ایلکس کیری نے 19، 19 اور ایڈم زیمپا نے 10 رنز بنائے۔ آسٹریلیا کے 7 بلے باز ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہوسکے، کیمرون گرین اور اولیور پیک 7،7 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جب کہ میتھیو شارٹ بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔

اس طرح آسٹریلین ٹیم مقررہ 50 اوورز کھیلنے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم 42 اوورز میں 157 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی اور یوں پاکستان کو جیت کے لیے 158 رنز کا ہدف دے دیا۔ یاد رہے کہ یہ آسٹریلیا کا پاکستانی سرزمین پر کم ترین اسکور ہے۔

پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ابرار احمد اور شاداب خان نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ دیگر بولرز نے بھی نپی تلی بولنگ کے ذریعے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو دباؤ میں رکھا۔

پاکستان کی بیٹنگ

آسٹریلیا کے 158 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز اچھا نہ تھا اور ابتدائی وکٹیں جلد گر گئیں، پاکستانی اوپنر صاحبزادہ فرحان بجھے بجھے نظر آئے اور 6 رنز پر پولین لوٹ گئے تاہم معاذ صداقت نے برق رفتار 27 رنز بنا کر ٹیم کے لیے آغاز کو قابلِ ذکر بنادیا۔ 

مشکل وکٹ پر پاکستانی بیٹرز کے لیے بیٹنگ کرنا دشوار ہوگیا، 41 رنز پر دونوں اوپنرز کے آؤٹ ہونے کے بعد نوجوان غازی غوری بھی 8 رنز بنانے کے بعد 60 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوگئے۔ 

چوتھی وکٹ پر سلمان علی آغا اور بابر اعظم نے 33 رنز جوڑے تاہم 93 کے مجموعے پر سلمان کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی بیٹرز پر دباؤ نظر آنے لگا۔ 

پانچویں وکٹ پر بابر اعظم نے عرفات منہاس کے ساتھ 19 رنز کی شراکت بنائی لیکن 112 کے مجموعے پر وہ بھی 85 گیندوں پر 40 رنز کی اننگز کھیل کر میتھیو کونیمین کی زبردست گیند پر بولڈ ہوگئے۔

مڈل آرڈر میں عرفات منہاس 9 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کی 6 وکٹیں 112 رنز پر گر چکی تھیں اور میچ دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا تھا۔

عبدالصمد اور شاداب خان نے گراؤنڈ پر پراعتماد انداز اپنایا اور بالترتیب 18 اور 29 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچا دیا۔

اس نازک صورت حال میں شاداب خان اور عبدالصمد نے ساتویں وکٹ پر ناقابلِ شکست 49 رنز کی پارٹنرشپ بنا کر ٹیم کو 49 گیندیں قبل ہی فتح سے ہمکنار کروادیا۔ شاداب 29 اور عبدالصمد 18 رنز کے ساتھ ناقابلِ شکست رہے۔

اس طرح پاکستان نے آسٹریلیا کی جانب سے دیا گیا 158 رنز کا 41.5 اوورز پورا کرتے ہوئے یہ میچ 4 وکٹوں سے اپنے نام کرلیا اور ساتھ ہی سیریز 1-2 سے جیت لی۔ اس فتح کے ساتھ پاکستان نے سیریز جیت کر شائقین کرکٹ کو خوشی کا بڑا تحفہ دے دیا۔

آسٹریلیا کی جانب سے میتھیو کونیمین مین نے 3 وکٹیں حاصل کیں تاہم وہ اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے جب کہ نیتھن ایلس، میتھیو شارٹ اور میٹ رینشا نے ایک ایک وکٹ لی۔

میچ کا ٹاس

جمعرات کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں آسٹریلیا کے کپتان جوش انگلس نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لاہور میں بارش اور آندھی کے باعث ٹاس 15 منٹ کی تاخیر سے 4 بج کر 15 منٹ پر ہوا جب کہ میچ کا آغاز 4 بج کر 45 منٹ پر ہوا۔

پاکستان ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جب کہ آسٹریلوی ٹیم میں ایک تبدیلی ہوئی ہے، تنویر سنگھا کی جگہ کوپر کونولی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

ٹاس کے موقع پر پاکستان ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف مزید اچھی بولنگ کرنا پڑے گی، بارش سے زیادہ اثر نہیں پڑا ہوگا، اسپینرز سے اچھی مدد ملے گی۔

پاکستانی اسکواڈ

پاکستانی ٹیم میں صاحبزادہ فرحان، معاذ صداقت، بابر اعظم، محمد غازی غوری، سلمان علی آغا، عبدالصمد، شاداب خان، عرفات منہاس، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور ابرار احمد شامل ہیں۔

آسٹریلوی اسکواڈ

آسٹریلوی الیون کی قیادت جوش انگلس کررہے ہیں اور ٹیم میں میٹ شارٹ، الیکس کیری، مارنس لبوشین، کیمرون گرین، میٹ رینشا، اولی پیک، نیتھن ایلس، کوپر کونیلی، ایڈم زیمپا اور کونیمین موجود ہیں۔

ہیڈ ٹو ہیڈ مقابلے

اگر پاکستان اور آسٹریلیا کے باہمی ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو ون ڈے کرکٹ میں آسٹریلیا کا پلہ ہمیشہ بھاری رہا ہے۔ دونوں ٹیمیں اب تک 113 مرتبہ ایک روزہ میچوں میں آمنے سامنے آچکی ہیں جس میں سے 72 میچوں میں آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کی ہے جب کہ پاکستان صرف 37 میچز جیت سکا ہے۔ اس کے علاوہ تین میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے اور ایک میچ ٹائی رہا۔

حالیہ سیریز میں پاکستان کے پاس آسٹریلیا کے خلاف مسلسل تیسری مرتبہ ون ڈے سیریز جیتنے کا سنہری موقع ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے 2022 میں ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا کو2 ایک سے شکست دی تھی اور پھر نومبر 2024 میں آسٹریلیا کی دھرتی پر تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیریز دو ایک سے اپنے نام کی تھی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم اپنی جیت کا تسلسل برقرار رکھتی ہے یا جوش انگلس کی نوجوان آسٹریلوی ٹیم سیریز جیت کر گرین شرٹس کی اس بالادستی کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ایک روزہ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہے، پہلے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے شکست دی تھی جب کہ دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 42 رنز سے شکست دی تھی۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ون ڈے سیریز میں پانچ مرتبہ ایسا موقع آیا ہے جب سیریز کا آخری میچ فیصلہ کن بن گیا ہو اور ایسی صورت حال میں 4 مرتبہ پاکستان جب کہ ایک بار آسٹریلیا فاتح رہا ہے۔