آسٹریلوی کرکٹر ڈیوڈ وارنر نے شراب پی کر گاڑی چلانے کا جرم قبول کر لیا، جیل جانے کا خطرہ

اس قانونی معاملے نے ان کے مستقبل کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
شائع 22 جولائ 2026 01:38pm

آسٹریلیا کے مشہور کرکٹر ڈیوڈ وارنر ایک قانونی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ سابق آسٹریلوی اوپننگ بلے باز نے شراب پی کر گاڑی چلانے کے الزام میں عدالت میں اپنا جرم تسلیم کر لیا ہے۔ اس معاملے کے بعد ان کی سڈنی تھنڈر ٹیم کی کپتانی پربھی خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

ڈیوڈ وارنر کی جانب سے ان کے وکیل بوبی ہِل نے بدھ کے روز سڈنی کی مقامی عدالت میں جرم قبول کیا۔ 39 سالہ وارنر خود عدالت میں موجود نہیں تھے۔ یہ واقعہ اپریل کے مہینے میں پیش آیا تھا جب سڈنی کی پولیس نے ڈیوڈ وارنر کی گاڑی کو روکا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ وارنر نے نالے کے پاس گاڑی روکنے کی کوشش کی لیکن پولیس افسران نے انہیں پکڑ لیا۔ جب پولیس تھانے میں ان کے سانس کا معائنہ کیا گیا تو ان کے خون میں الکحل کی مقدار آسٹریلیا کے قانون کی مقررہ حد سے دو گنا سے بھی زیادہ نکلی۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وارنر کے وکیل بوبی ہِل نے کہا کہ کرکٹر نے اپنی غلطی کی مکمل ذمہ داری قبول کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وارنر نے اپنے دوست کے گھر تین گلاس وائن پی تھی اور آخری گلاس ختم کرنے کے صرف گیارہ منٹ بعد ہی خود گاڑی چلا کر گھر جانے کا فیصلہ کیا، جبکہ انہیں کوئی ٹیکسی یا گاڑی کرائے پر لے لینی چاہیے تھی۔

عدالت اس معاملے کا حتمی فیصلہ اٹھارہ اگست کو سنائے گی۔ آسٹریلیا کے قانون کے مطابق اس طرح کی غلطی پر پہلی بار نو مہینے تک کی جیل، جرمانہ اور چھ سے بارہ مہینے کے لیے ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

اس واقعے کے بعد ڈیوڈ وارنر کی کرکٹ ٹیم سڈنی تھنڈر کی کپتانی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ آسٹریلیا کا کرکٹ بورڈ سڑکوں پر محفوظ ڈرائیونگ کی مہم چلاتا ہے اور شراب پی کر گاڑی چلانے کی سخت مخالفت کرتا ہے۔

کرکٹ نیو ساؤتھ ویلز کے چیف ایگزیکٹو لی جرمن نے اس معلاملے پر اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ، ”یہ الزامات یقیناً تشویش کا باعث ہیں اور ہم انہیں بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ کرکٹ نیو ساؤتھ ویلز میں ہم محفوظ ڈرائیونگ کے مضبوط حامی ہیں، شراب پی کر گاڑی چلانے کے نہیں۔“

ڈیوڈ وارنر کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ انہیں 2024 کے آخر میں دوبارہ آسٹریلوی کرکٹ میں قیادت کے عہدے کے لیے اہل قرار دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے 2018 کے کیپ ٹاؤن بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے ان پر تاحیات قیادت کی پابندی عائد کی تھی، جسے بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔

اب کرکٹ نیو ساؤتھ ویلز اور سڈنی تھنڈر کے حکام اگست میں عدالت کے فیصلے کے بعد وارنر کی کپتانی کے مستقبل کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

ڈیوڈ وارنر آسٹریلیا کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں اور انہوں نے اپنے طویل کیریئر میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم اس قانونی معاملے نے ان کے کھیل سے ہٹ کر مستقبل کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔