امریکا کا ایران پر مسلسل گیارہویں رات 75 منٹ تک بمباری، ایرانی فضائی دفاعی نظام فعال

ایرانی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق ایران پر حالیہ امریکی حملوں میں 50 شہری ہلاک اور 500 زخمی ہوئے ہیں۔
شائع 22 جولائ 2026 08:34am

امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات کیے گئے حملوں کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ”سینٹ کام نے ایرانی عسکری آپریشنز سینٹرز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور عسکری لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہاز رانی کو دھمکانے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کم کیا جا سکے“۔

امریکی عسکری حکام کے مطابق منگل کی رات کیے گئے یہ حملے تقریباً 75 منٹ تک جاری رہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے شہر تبریز کے مغرب میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ جنوبی ایران کے علاقے سیریک کے اطراف میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ان حملوں میں جانی و مالی نقصان کی تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ جبکہ تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین مہینوں کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان اس جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور ان خلیجی ریاستوں پر جوابی کارروائیاں کیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

اس جنگ کے دوران ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

ایرانی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق سیز فائر ختم ہونے کے بعد ایران پر کیے گئے حالیہ امریکی حملوں میں 50 شہری ہلاک اور 500 زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی حالیہ دنوں میں بڑھ کر 18 ہو گئی ہے۔

پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایران میں توانائی کے پاور پلانٹس اور پلوں کو بھی اپنے عسکری ہدف کا حصہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

جنگوں میں انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق 1949 کے جنیوا کنونشنز ایسے تمام مقامات پر حملوں کی سخت ممانعت کرتے ہیں جو عام شہریوں کی زندگی کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد امریکا کے بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے اپریل میں خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔