پہاڑ، صحرا اور جزائر پر مشتمل 'قدرتی قلعہ'، ایران پر زمینی حملہ کیوں آسان نہیں؟

زاگروس اور البرز کا پہاڑی سلسلہ، دشتِ لوط اور دشتِ کویر جیسے خطرناک صحرا اور آبنائے ہرمز ایران کا ایسا دفاعی حصار ہیں جو اسے ایک ’قدرتی قلعہ‘ بنا دیتے ہیں۔
شائع 22 جولائ 2026 11:15am

امریکا اور ایران کے درمیان دستخط شدہ جنگ بندی معاہدہ ’اسلام آباد میمورنڈم‘ معطل ہونے کے بعد فوجی کارروائیوں میں تیزی آچکی ہے۔ امریکا نے 12 جولائی سے ایران پر دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس میں مختلف اہداف خصوصاً ساحلی علاقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں میں اب تک 3 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ واشنگٹن کے تھنک ٹینکس تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے زمینی کارروائیوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔

امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ میں چند روز قبل شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو توسیع دینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی فوج اور انتظامیہ نے انہیں متعدد آپشنز پر بریفنگ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کی بریفنگ میں ایران پر فضائی حملوں میں شدت لانے، زمینی فوج اتارنے اور ایک زیرِ زمین جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کے امکانات زیرِ غور آئے ہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا تاہم صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد ایران نے امریکی فوج کی ممکنہ زمینی کارروائی سے متعلق خبروں پر شدید ردعمل دیا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی میں ایران میں کبھی فوجی دراندازی کی کوئی کوشش ہوئی اور کیا موجودہ حالات میں امریکا ایران کے اندر فوجیں اتار سکتا ہے؟

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ اور صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر امریکا نے ایران میں کہیں فوجیں اتارنے کی کوشش کی تو وہ اس کے جزائر ہوں گے، جس میں سب سے اہم مقام جزیرہ خارگ ہے۔

صدر ٹرمپ نے خود بھی حالیہ بیانات میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف نئے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’بعض اوقات زمینی کارروائی بہت ضروری ہو جاتی ہے۔ خارگ جزیرے پر قبضے کا امکان کم ضرور ہے لیکن اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔‘

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اگر صدر ٹرمپ ایران میں زمینی کارروائی کی منظوری دیتے ہیں تو یہ تقریباً پانچ ماہ سے جاری جنگ کا سب سے خطرناک مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور امریکا کی داخلی سیاست پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی جزیرہ خارگ اور ایران کی تیل تنصیبات پر قبضے کے بیانات دیتے رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے جنگ کے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد امریکا اور اسرائیل نے اس جزیرے کو مسلسل نشانے پر رکھا ہوا تھا، اسی دوران اس جزیرے پر قبضے کی باتیں بھی ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ امریکا میں ’خارگ‘ پر قبضے کے لیے اپنی خطرناک ترین پیراشوٹ فورس ’82ویں ایئر بورن ڈویژن‘ کی تعیناتی پر بھی بحث ہوئی۔

’ایئر بورن ڈویژن‘ دنیا کی سب سے بڑی پیراشوٹ فورس کہلاتی ہے جو چند گھنٹوں کے نوٹس پر دنیا کے کسی بھی علاقے میں زمینی کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایران کے جزیرہ خارگ امریکا اتنی دلچسپی کیوں رکھتا ہے؟

جزیرہ خارگ

خارگ ایران کی ’پیٹرولیم انڈسٹری‘ کا مرکز اور معاشی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران اس جزیرے سے ہر سال تقریباً 950 ملین بیرل خام تیل کی ترسیل کرتا ہے جو اس کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد بنتا ہے۔

جزیرہ خارگ ایرانی کے جنوبی ساحل سے 28 کلومیٹر اور آبنائے ہرمز سے تقریباً 483 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہ جزیرہ جغرافیائی اور تاریخی طور پر ہمیشہ سے ایران (سلطنتِ فارس) کا حصہ رہا ہے اور 18ویں صدی کے وسط سے مسلسل اور بلا شرکتِ غیرے ایران کے ہی زیرِ انتظام ہے۔

اس جزیرے کی تاریخی اہمیت کے علاوہ ایک خصوصیت اس کے اردگرد موجود گہرا سمندر ہے۔ دوسرے جزائر کے برعکس یہاں بڑے بحری جہاز اور آئل ٹینکرز باآسانی لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ چین، جنوبی کوریا، جاپان سمیت بیشتر ایشیائی ممالک کو تیل کی ترسیل اسی جزیرے سے ہوتی ہے۔

امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس جزیرے کی ہموار سطح کی وجہ سے یہاں بحری اور فضائی راستے سے فوج اتارنا آسان ہے۔ حکام کے مطابق اس جزیرے پر قبضہ کر کے ایران کی معیشت کی شہ رگ کو کاٹا جاسکتا ہے اور اسے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔

ایران کا جزیرہ خارگ ماضی میں بھی شدید حملوں کی زد میں رہا ہے۔ 80ء کی دہائی میں جب ایران-عراق جنگ کے دوران عراقی افواج نے ایرانی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کے تیل بردار جہازوں اور جزیرہ خارگ پر واقع آئل ٹرمینلز کو نشانہ بنایا تھا۔

عراقی حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز میں عراق کے حامی یا اس سے تیل خریدنے والے ممالک کے بحری جہازوں پر حملے شروع کر دیے تھے۔ یہ جھڑپیں تاریخ میں ’ٹینکر وار‘ کے نام سے مشہور ہیں جو 20 اگست 1988ء کو ایران عراق جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد پر عمل درآمد کے ساتھ ہی ختم ہوئی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ خارگ ایران کے اہم ترین اسٹریٹیجک مقامات میں سے ایک ہے، سخت نگرانی اور آمدورفت پر پابندیوں کے باعث اسے ’ممنوعہ جزیرہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

کیا امریکا جنوبی ایران میں فوج اتار سکتا ہے؟

امریکی فوج کے حالیہ حملوں میں ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں، خصوصاً ہرمزگان صوبے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ اہواز، قشم، بوشہر، سیریک سمیت بندر عباس بھی امریکی اہداف میں شامل ہے، یہ تمام علاقے ایران کے جنوب میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں۔

بندر عباس ایران کا اہم ترین اسٹرٹیجک ساحلی شہر ہے جو آبنائے ہرمز کے سنگم پر واقع ہے۔ یہاں ایرانی بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب کی سمندری افواج کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔

خلیج فارس کے علاوہ ایران کا ایک طویل ساحل بحیرہ عمان کے ساتھ بھی ہے، جسے ’ساحلِ مکران‘ کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ چابہار بندرگاہ کی وجہ سے بھی اہم ہے اور حالیہ برسوں میں ایران نے خلیج فارس کے علاوہ کھلے سمندر میں نگرانی کے لیے مکران کو اپنی بحری حکمتِ عملی میں زیادہ اہمیت دینا شروع کی ہے۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے جنوب میں شہری اور بنیادی ڈھانچے پر حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ امریکا یہاں کسی زمینی کارروائی کے لیے سازگار حالات بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تاہم لنکاسٹر یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر سائمن میبن نے ایران میں کسی بھی قسم کے زمینی حملے کو انتہائی خطرناک قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ان کے خیال میں زیادہ امکان یہ ہے کہ امریکا کے حالیہ حملوں کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور اسے مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔

ایران: ایک قدرتی قلعہ

ایران کے بارے میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ مسلسل دباؤ اور فضائی حملوں کے باوجود اس کی دفاعی صلاحیت پر کوئی اثر کیوں نہیں پڑتا۔ اس کی وجہ ایران کا حیرت انگیز جغرافیہ ہے جسے ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔

ایران کی دفاعی طاقت کو سمجھنے کے لیے اس کے جغرافیہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایران کا وسیع رقبہ پہاڑی سلسلوں، صحراؤں، زرخیز وادیوں اور کھلے میدانوں پر مشتمل ہے۔

ایران کے مغرب میں زاگروس کا طویل پہاڑی سلسلہ، شمال میں البرز کی فلک بوس چوٹیاں اک بلند دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ مشرقی حصے میں دشتِ لوط اور وسط میں دشتِ کویر جیسے خطرناک صحرا ہیں جب کہ جنوب میں آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس، یہ تمام عناصر ایران کو ایسا دفاعی حصار فراہم کرتے ہیں جس کی بنا پر اسے ’قدرتی قلعہ‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

یہی جغرافیہ ایران کو بھرپور دفاعی قوت فراہم کرتا ہے اور اس دفاعی حصار کی وجہ سے ہی کسی بھی دشمن کے لیے روایتی زمینی حملہ لاجسٹک اعتبار سے ناممکن ہو جاتا ہے۔

سنہ 1980ء سے 1988ء تک جاری رہنے والی ایران-عراق جنگ کے دوران عراقی صدر صدام حسین کے حکم پر عراقی فوج نے ایران کے جنوبی صوبے ’خوزستان‘ پر زمینی حملہ کیا اور سرحدی شہروں خرم شہر اور آبادان پر قبضہ کرلیا تھا۔ تاہم مقامی آبادی کی شدید مزاحمت اور سنگلاخ پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے یہ پیش قدمی خوزستان سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔

سنہ 1981 اور 1982 میں ایران نے بڑے پیمانے پر جوابی حملے شروع کیے اور شلمچہ سمیت اپنے تمام مقبوضہ علاقے عراقی فوج سے واپس چھین لیے تھے۔

عراق کی سرحد پر واقع خوزستان جغرافیائی طور پر ایک ہموار میدانی علاقہ ہے۔ مغرب کی جانب سے ایران پر حملے اسی میدانی راستے سے ہوتے رہے کیوں کہ یہاں پہاڑی رکاوٹیں موجود نہیں ہیں۔ ایران کے تیل کے اہم ترین کنویں بھی یہیں پائے جاتے ہیں۔

تاہم خوزستان کے چند شہروں کو عبور کرنے کے بعد زاگروس کا عظیم پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ زاگروس ایران کا سب سے بڑا پہاڑی سلسلہ ہے جو تقریباً 1600 کلومیٹر پر محیط ہے۔

یہ پہاڑی سلسلہ شمال مغرب میں ترکیہ اور عراق کی سرحد سے شروع ہو کر جنوب میں خلیج فارس تک پھیلا ہوا ہےجو کسی بھی بیرونی فوج کو ایران کے مرکزی شہروں کی طرف پیش قدمی سے روکنے کے لیے ’ناقابلِ عبور‘ قدرتی دیوار کا کام کرتا ہے۔

تاریخی طور پر زاگروس کو گوریلا جنگ کے لیے دنیا کا سب سے بہترین علاقہ مانا جاتا ہے۔ یہاں ہزاروں قدرتی غاریں، گہری کھائیاں اور تنگ درے ہیں جہاں بھاری بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک بالکل ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

ایران کے شمال میں بحیرہ خزر (کیسپیئن سی) اور ’البرز‘ کا طویل پہاڑی سلسلہ ہے، جس کی بلند ترین چوٹی کوہِ دماوند ہے۔ 5,610 میٹر بلند یہ پہاڑی چوٹی نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی بلند ترین چوٹی اور ایک فعال آتش فشاں ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ تہران کو شمال کی جانب سے مضبوط قدرتی دفاع فراہم کرتا ہے۔

اگر کوئی فوج بحیرہ خزر کے راستے شمالی ایران میں داخل بھی ہو جائے تو اس کے لیے ’البرز‘ کے دشوار گزار پہاڑی دروں کو عبور کر کے تہران میں داخل ہونا ناممکن ہے۔

سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے زاگروس اور البرز کے پہاڑوں کے اندر سیکڑوں فٹ گہرے زیرِ زمین ’میزائل سٹی‘ آباد کر رکھے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے بھی البرز، زاگروس اور خلیجِ فارس کے ساحلی پہاڑوں کے اندر کئی کلومیٹر طویل اور گہری کنکریٹ کی سرنگوں کی ویڈیوز جاری کی تھیں، جہاں بیلسٹک میزائل، لانچنگ ٹرکس اور ڈرونز کی بڑی کھیپ دیکھی جاسکتی ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امریکا کے پاس موجود دنیا کا سب سے تباہ کُن بم ’بنکر بسٹر‘ بھی گرینائٹ کے پہاڑوں کو کاٹ کر بنائے گئے ایران کے بعض مخصوص زیرِ زمین ٹھکانوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔

ایران کے مشرق میں پاکستان اور افغانستان کے ساتھ موجود سرحد بھی زیادہ تر پہاڑی، نیم پہاڑی اور دشتِ لوط جیسے خطرناک صحرائی علاقے پر مشتمل ہے۔

خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے دشتِ لوط دنیا کے گرم ترین مقامات میں سے ایک قرار دیا ہے، جہاں درجہ حرارت 70 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔ شدید گرمی اور پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہاں کسی بھی زمینی فوج کا پیش قدمی کرنا تو دور، زندہ رہنا بھی ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

شمالی حصے میں موجود دشتِ کویر نمکین دلدلوں پر مشتمل ہے، جس کی بالائی سطح بظاہر سخت معلوم ہوتی ہے لیکن اس کے نیچے گہرا نمکین کیچڑ موجود ہوتا ہے جو کسی بھی زمینی فوج کی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکس وغیرہ کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے فوجی دراندازی سے متعلق رپورٹس پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کی سرزمین پر فوج اتارنے یا کسی بھی زمینی دراندازی کی کوشش کی تو اسے انتہائی بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے حال ہی میں ایک بیان میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’جزیرہ خارگ اور ساحلی علاقوں کے عوام امریکی فوجیوں کی آمد کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں عبرتناک سبق سکھایا جا سکے“۔

برطانوی تھنک ٹینک انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 5 لاکھ 70 ہزار باقاعدہ فعال فوجی موجود ہیں۔ اس میں ایرانی فوج کے ساڑھے تین لاکھ اہلکار اور پاسدارانِ انقلاب کے ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد ایلیٹ اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس بسیج رضاکار فورس اور سابق فوجیوں کی صورت میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار ریزرو فورسز بھی موجود ہیں۔

اگرچہ ایران کے پاس فضائی دفاع کے لیے جدید طیاروں اور ایئرڈیفنس سسٹمز کی کمی ہے تاہم اس کے پاس جدید اینٹی شپ کروز میزائل سسٹمز، خلیجِ فارس میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں، جدید ڈرونز اور سمندری خودکش کشتیوں کی صورت میں ایک منظم دفاعی قوت موجود ہے، جو اسے کسی بھی فوجی حملے یا دراندازی کو روکنے کی بھرپور صلاحیت فراہم کرتی ہے۔