لاہور میں 263 ملی میٹر بارش، سڑکیں اور انڈر پاسز زیرِ آب، ڈیفنس میں کشتیاں چل گئیں

مون سون بارشوں نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوگیا، متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں پانی میں بند ہوگئیں۔
شائع 23 جولائ 2026 05:51pm

صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہونے والی ریکارڈ مون سون بارشوں نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا۔ لاہور میں ایک ہی اسپیل کے دوران 263 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث سڑکیں اور انڈر پاسز زیر آب آگئے، متعدد علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا جب کہ پانی کا نکاس نہ ہونے پر ڈیفنس میں شہریوں نے کشتیاں چلانا شروع کر دیں۔

لاہور سمیت پنجاب بھر میں صبحِ سویرے شروع ہونے والی موسلا دھار بارش نے جھل تھل ایک کر دیا، شدید بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے اور لاہور کی شاہراہیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی رہیں جب کہ کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوگیا، متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں پانی میں بند ہوگئیں۔

ڈیفنس کے علاقے میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، پانی کا نکاس نہ ہونے پر ڈیفنس میں شہریوں نے کشتیاں چلانا شروع کر دیں، شہری آمدورفت اور منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے کشتیوں کے استعمال پر مجبور ہوگئے۔

ترجمان واسا کے مطابق لاہور ایئرپورٹ کے علاقے میں سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ تاجپورہ میں 155 ملی میٹر، کاہنہ میں 143، شادی پورہ میں 132، مغل پورہ میں 129، اپر مال میں 114، مناواں میں 106، جوہر ٹاؤن میں 81، چوک ناخدا میں 62، نشتر ٹاؤن میں 56، اقبال ٹاؤن میں 54، گلبرگ ہیڈ آفس میں 52، ڈیفنس روڈ پر 45، سمن آباد میں 32، جیل روڈ پر 28 اور دیگر علاقوں میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی۔

بارش کے باعث ہربنس پورہ، غازی انڈر پاس، مسجد چوک انڈر پاس اور ڈیفنس کے متعدد انڈر پاس مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئے، جس کے باعث انہیں ٹریفک کے لیے بند کرنا پڑا۔ سی ٹی او لاہور نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز اور پانی کی سطح کم ہونے تک احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔

تاجپورہ، مغل پورہ، صحافی کالونی، جلو پارک، میڈیکل اسکیم، تاجپورہ اسکیم، لاک جان چوک، وطین چوک اور دیگر نشیبی علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جب کہ متعدد گھروں میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا۔

رحمان پورہ، اچھرہ کے قریب فیروز پور روڈ پر پانی جمع ہونے اور سڑک میں گڑھوں کے باعث متعدد موٹرسائیکل سوار حادثات کا شکار ہوئے۔ 2 ارب روپے کی لاگت سے نئی سیوریج لائنیں بچھائے جانے کے باوجود خیابانِ فردوسی پر ایک بار پھر سڑک دھنسنے کا واقعہ پیش آیا۔ گڑھی شاہو حبیب اللہ روڈ پر ایل ڈبلیو ایم سی کا ایک ٹرک بھی سڑک میں دھنس گیا، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

بارش کے دوران سینٹر پارک گیٹ نمبر 2 کے قریب موٹرسائیکل پھسل کر فٹ پاتھ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 18 سالہ حمزہ اور 16 سالہ حسن جاں بحق ہوگئے۔ دونوں بھائی لاہور سے قصور جا رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی وجہ بارش کے باعث موٹرسائیکل کا بے قابو ہونا قرار دی گئی ہے۔

ڈیفنس فیز 4 میں ایک گھر کی چھت گرنے سے 4 افراد زخمی ہوگئے جب کہ کینٹ کچہری کا احاطہ بھی بارش کے پانی میں ڈوب گیا اور عدالتوں کی راہداریوں میں پانی داخل ہونے سے عدالتی ریکارڈ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق گزشتہ 3 روز کے دوران لاہور میں سب سے زیادہ 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جب کہ گوجرانوالہ میں 286 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 278، نارووال میں 235، مری میں 196، منڈی بہاؤالدین میں 177، گجرات میں 143، جہلم میں 135، حافظ آباد میں 108، منگلا میں 102، چکوال میں 96، اوکاڑہ میں 71، جھنگ میں 66، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 57، راولپنڈی میں 43، لیہ میں 35 اور ڈیرہ غازی خان میں 34 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جب کہ دیگر کئی اضلاع میں بھی مون سون بارشیں ہوئیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 3 روز کے دوران پنجاب بھر میں بارش سے متعلق حادثات اور چھتیں گرنے کے مختلف واقعات میں 21 افراد جاں بحق جب کہ 154 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

واسا لاہور کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایات کے تحت نکاسیٔ آب کا آپریشن جاری ہے اور شہر کے تقریباً 80 فیصد علاقوں سے بارشی پانی نکال دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کا دوسرا اسپیل کل تک جاری رہنے کا امکان ہے جب کہ شہریوں کو نشیبی علاقوں، برساتی نالوں، دریاؤں اور کمزور عمارتوں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔