صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ اسی صورت منظور کیا جائے گا جب سعودی عرب ابراہم معاہدے میں شامل ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی سول نیوکلیئر معاہدے کی منظوری دی تھی، جس میں سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کے ممکنہ اختیار کا نکتہ بھی شامل ہے۔
اس معاہدے پر امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے دستخط کیے۔ اگلے مرحلے میں اس معاہدے کو امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا اور منظوری کی صورت میں ہی یہ نافذ العمل ہوسکے گا۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام سے متعلق معاہدہ منظور ہو جائے گا، لیکن یہ اس بات سے مشروط ہوگا کہ سعودی عرب ابراہم معاہدے میں شامل ہو۔

ابراہم معاہدہ صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں شروع کیا گیا وہ منصوبہ ہے جس کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان باقاعدہ سفارتی، تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات قائم کروانا ہے۔ امریکی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے میں اب تک یو اے ای، بحرین، مراکش اور سوڈان شامل ہوچکے ہیں۔
صدر ٹرمپ پہلے بھی کئی مربتہ سعودی عرب سمیت دیگر مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس معاہدے میں شامل کروانے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں، تاہم سعودی عرب سمیت کئی اہم مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرنے یا ابراہم معاہدے کا حصہ بننے کے لیے آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام لازمی شرط قرار دے رکھا ہے۔
امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری تعاون کا معاہدہ کئی برسوں سے زیر غور تھا جس پر صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت اور بعد ازاں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں بھی کام جاری رہا، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اگر ایسا کوئی معاہدہ ہوا تو اسے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے منصوبے کا حصہ بنایا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں وہ یہی معاہدہ چین یا روس کے ساتھ بھی کر سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو یا کسی وزیر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدے سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم اسرائیل کے متعدد رہنماؤں نے اس معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیراعظم اور اگلے انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدوار نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا جوہری معاہدہ نیتن یاہو حکومت کی سنگین ناکامی ہے جو اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور خطرناک صورت حال کو جنم دے سکتی ہے۔
سابق اسرائیلی وزیر دفاع ایویگڈور لیبرمین نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سعودی عرب کا سول جوہری پروگرام ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو امریکی کانگریس پر زور دینا چاہیے کہ وہ اس کی منظوری نہ دے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے پڑوسی ملک متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا تھا تاہم اس معاہدے میں یو اے ای کو اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کا اختیار نہیں دیا گیا تھا۔
سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے میں اسے اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کرنے کا ممکنہ راستہ فراہم کیا گیا ہے، جس کی ماضی میں امریکا سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔
امریکی وزارتِ توانائی کے مطابق اس معاہدے سے امریکا میں بہتر معاوضے والی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، توانائی اور قومی سلامتی کے شعبوں کو تقویت ملے گی، جبکہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔















