ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی لاش میں زندگی کے آثار، سائنسدان حیران

اوٹزی نے مرنے سے پہلے جو جنگلی گوشت اور اناج کھایا تھا، یہ جراثیم اسی ماحول میں اب بھی سانس لے رہے ہیں۔
اپ ڈیٹ 04 جون 2026 10:22am

اٹلی کے برفانی پہاڑوں سے ملنے والی 5 ہزار 3 سو سال پرانی مشہور ترین ممی ”اوٹزی دی آئس مین“ کے بارے میں ایک ایسی سائنسی دریافت ہوئی ہے جس نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس قدیم ممی کے اندر موجود خردبینی جاندار نہ صرف اب تک زندہ ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اوٹزی کے جسم میں موجود بعض قدیم آنتوں کے بیکٹیریا اور سرد ماحول میں زندہ رہنے والی خمیر کی اقسام اب بھی حیاتیاتی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔ یہ انکشاف سائنسی جریدے ”مائیکروبایوم“ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

اوٹزی کی ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے خصوصی فریزر میں رکھا گیا تھا تاکہ وقت کے اثرات کو تقریباً روک دیا جائے۔ تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ممی کے اندر موجود بعض جراثیم نہ صرف زندہ ہیں بلکہ وقت کے ساتھ خود کو ماحول کے مطابق ڈھال بھی رہے ہیں۔

اٹلی کے یوراک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے محقق محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی کی جلد، اندرونی بافتوں اور پگھلے ہوئے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیق کے دوران انہیں ایک ایسا قدیم حیاتیاتی نظام ملا جو ہزاروں سال پہلے انسانی جسم میں موجود جرثوموں کی دنیا کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اوٹزی کی آنتوں میں موجود فعال بیکٹیریا اس کی آخری خوراک کے آثار سے مطابقت رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی آخری غذا میں چکنائی سے بھرپور جنگلی جانوروں کا گوشت، قدیم اناج اور ایک زہریلا فرن پودا شامل تھا۔

ماہرین نے کچھ نایاب بیکٹیریا بھی دریافت کیے جن میں رومبوٹسیا ہومینس اور کلوسٹریڈیم مونیلیفارم شامل ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ جراثیم جدید شہری آبادیوں میں تقریباً ختم ہو چکے ہیں، تاہم افریقہ اور جنوبی امریکہ کے بعض دور دراز قبائلی معاشروں میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔

تحقیق کا سب سے حیران کن پہلو خمیر کی بعض اقسام سے متعلق ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ نو برسوں کے دوران ان خمیری جراثیم کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ یہ جراثیم ان فینول پر مبنی جراثیم کش کیمیکلز کو استعمال کرکے زندہ رہنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں جو ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس دریافت نے قدیم آثار کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر ہزاروں سال پرانے جراثیم انتہائی سرد ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں اور جدید جراثیم کش مادوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں تو پھر دنیا بھر کے عجائب گھروں میں موجود ممی کو اندر سے نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

اگرچہ اوٹزی کے قاتل کی شناخت آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے، لیکن اس کے جسم میں موجود زندہ مائیکروبایوم سائنسدانوں کو انسانی صحت، بیماریوں اور جراثیمی ارتقا کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک نادر موقع فراہم کر رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں انسانی جسم اور اس میں رہنے والے جراثیم کے تعلق کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے لا سکتی ہے۔