ایران سے نیا معاہدہ اوباما اور بائیڈن دور کے جوہری معاہدے سے بہتر ہوگا: صدرٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جو نیا معاہدہ کر رہا ہے وہ سابق صدر باراک اوباما اور جو بائیڈن کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے سے کہیں بہتر ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جلد ہونے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں پیش رفت کے واضح امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک سنجیدہ بات چیت کے عمل میں شریک ہیں اور کسی بھی جانب سے وقت ضائع نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان میں کہا کہ سابقہ ایران ڈیل ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی طرف لے جا رہی تھی، تاہم ان کے مطابق ان کی زیر نگرانی تیار ہونے والے معاہدے میں ایسا کوئی خطرہ موجود نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں ایران کو 1.7 ارب ڈالر نقد ایک بوئنگ 757 کے ذریعے منتقل کیے گئے، جب کہ ان کے مطابق یہ رقم ایرانی قیادت کو آزادانہ استعمال کے لیے دی گئی۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے علاوہ بھی ایران کو سیکڑوں ارب ڈالرز ادا کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف جوہری خطرات پیدا ہو سکتے تھے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی قیادت میں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ امن اور سلامتی کی ضمانت ہوگا، جو نہ صرف اسرائیل بل کہ پورے مشرق وسطیٰ، یورپ اور دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا اور اس پر دنیا فخر کرے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹس ایران کے معاملے پر ان کی پوزیشن کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ یہ کہتے ہیں کہ ایران کو چھ ہفتوں میں شکست دینے کا کہا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ماضی کی بڑی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلی عالمی جنگ 4 سال 3 ماہ 14 دن، دوسری عالمی جنگ 6 سال 1 دن، کوریا جنگ 3 سال 1 ماہ 2 دن، ویتنام جنگ 19 سال 5 ماہ 29 دن جب کہ عراق جنگ 8 سال 8 ماہ 28 دن جاری رہی۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت جلد بازی میں کوئی کمزور یا نامکمل معاہدہ نہیں کریں گے، بل کہ صرف ایسا معاہدہ ہوگا جو امریکی مفاد اور خطے کے استحکام کے مطابق ہو۔ امریکی صدر نے ڈیموکریٹس کو غدار قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جعلی خبروں پڑھیں کہ ڈیل کے حوالے سے میں دباؤ میں ہوں، میں کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہیں ہوں، حالانکہ ڈیل جلد ہوجائے گی لیکن مجھے وقت کی فکر نہیں۔

انھوں نے ٹروتھ سوشل پر مزید کہا کہ ایرانی قیادت نے بڑی تعداد میں بحری جہاز امریکا کی طرف بھیجے ہیں تاکہ وہ تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہوں، جن میں زیادہ تر ٹیکساس، لوزیانا اور الاسکا کی سمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال پر امریکا کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایک اور بیان میں کہا کہ وہ جنگ میں بڑی برتری سے جیت رہے ہیں اور امریکا کی فوجی کارکردگی انتہائی شاندار ہے۔
امریکی صدرنے اپنے بیان میں امریکی میڈیا خصوصاً نیو یارک ٹائمز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض میڈیا ادارے ایران کے ساتھ جاری صورت حال اور جنگ کے بارے میں غلط رپورٹس دے رہے ہیں اور امریکی فوجی کارکردگی کو منفی انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے اور امریکا بڑی برتری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، جب کہ ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں شدید کمزور ہو چکی ہیں۔ ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتیں کمزور ہو چکی ہیں اور اس کے کئی رہنما منظرنامے سے ہٹ گئے ہیں، ایران کی معیشت کو روزانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران پر پابندی یا ناکا بندی اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا، یہی دباؤ ایران کو مذاکرات کی طرف لے آئے گا۔
قبل ازیں، قطرکے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ امریکی وفد، جس میں جے ڈی وینس سمیت دیگر اراکین شامل ہیں، چند گھنٹوں میں روانہ ہو کر آج رات اسلام آباد پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی بھی فریق کھیل تماشا نہیں کر رہا، بل کہ سنجیدہ مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو ہوتا ہے تو وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وفد پہلے ہی روانہ ہو چکا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم درست اور ذمہ دار افراد سے بات چیت کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایک مطالبے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، ایرانی ایٹمی بم نہیں بنائے گا، سیدھا سا معاملہ ہے، ایران اپنے نیوکلیئر ہتھیار سے جان چھڑائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے بات مانی تو ایران میں ترقی کرنے کی صلاحیت ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے انہیں ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے پر قائل نہیں کیا۔ ان کے مطابق 7 اکتوبر کے واقعات نے ان کے اس دیرینہ مؤقف کو مزید مضبوط کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ فیک نیوز کے تجزیہ کاروں اور رائے عامہ کے جائزوں پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے مطابق ان میں سے 90 فیصد جھوٹ اور من گھڑت کہانیاں ہوتی ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ رائے عامہ کے سروے بھی جعلی ہوتے ہیں، جیسے 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا کی طرح ایران میں بھی صورتِ حال مختلف نتائج کی طرف جا سکتی ہے اور اگر ایران کی نئی قیادت (یا ممکنہ نظام کی تبدیلی) دانش مندی سے کام لے تو ملک کا مستقبل روشن اور خوش حال ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال اور ایک ایرانی تجارتی جہاز کی ضبطی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم امریکا کا مؤقف ہے کہ تمام فریق سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ماحول تیار ہے، اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے کوشش تیز کر دی گئیں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں خطے کی مجموعی صورت حال اور مجوزہ مذاکراتی وفود کی سیکیورٹی کے انتظامات پر گفتگو ہوئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ تنازع کا دیرپا حل ہی خطے میں امن و استحکام کی ضمانت ہے اور اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ غیر ملکی وفود کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
اس دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا ہے، جس میں خطے میں جاری تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتِ حال اور ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق غیر یقینی کیفیت پر گفتگو کی۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کے درمیان رابطوں کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہییں۔
خیال رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے مذاکرات کے انکار کے بعد بیان میں واضح کیا گیا کہ ان کا وفد مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان نہیں جائے گا، جس کے فوراً بعد پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں رابطہ ہوا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فیلڈ مارشل نے امریکی صدر کو واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکا بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جس پر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کرائی۔















