سندھ میں تین ماہ کے دوران ’ایچ آئی وی‘ کے 894 نئے کیسز ریکارڈ، 329 بچے متاثر

سال 2026 کے ابتدائی تین ماہ کے نئے ایچ آئی وی کیسز میں 332 مرد، 204 خواتین اور 29 خواجہ سرا شامل ہیں۔
شائع 14 اپريل 2026 04:19pm

سندھ میں رواں سال ایچ آئی وی (ایڈز) کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران صوبے بھر میں 894 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے، جس میں بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

انگریزی اخبار دی نیوز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں گزشتہ تین ماہ کے دوران سامنے آنے والے نئے ایچ آئی وی کیسز میں 332 مرد، 204 خواتین اور 29 خواجہ سراؤں میں اس مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ مہلک وائرس سے متاثر ہونے والوں میں 14 سال سے کم عمر کے 329 بچے ہیں، جن میں 188 لڑکے اور 141 لڑکیاں شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق کیسز میں اضافہ صحت کے نظام میں موجود خامیوں اور حفاظتی اقدامات کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہروں میں صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔

سندھ حکومت کے ڈیٹا کے مطابق جنوری 2026 میں ایچ آئی وی کے 294، فروری میں 324 جب کہ مارچ میں 276 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وائرس مسلسل پھیل رہا ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے 30 مارچ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تحریری جواب میں بتایا تھا کہ ملک بھر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی 84 ہزار 421 تک پہنچ چکی ہے۔

دی نیوز کی رپورٹ میں ماہرینِ صحت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2019 میں رتوڈیرو میں سامنے آنے والے ’ایچ آئی وی اسکینڈل‘ کے سات سال بعد بھی صورتِ حال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی اور نئے کیسز اس بات کا ثبوت ہیں کہ صوبے کے طبی نظام میں بنیادی خامیاں اب بھی موجود ہیں۔

نومبر 2025 میں بھی کراچی کے علاقے سائٹ میں واقع کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں بھی بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جس کے بعد محکمہ صحت نے اسپتال کے عملے کو معطل کر کے تحقیقات کا آغاز کیا، تاہم اس کے باوجود نئے کیسز رپورٹ ہونا جاری ہیں۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے فروری 2026 میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں ولیکا اسپتال میں عملے کی غفلت کی تحقیقات سے متعلق انکشاف کیا تھا کہ مذکورہ اسپتال میں آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے باعث ایچ آئی وی کا پھیلاؤ ہوا، جس کے نتیجے میں 84 بچے اس مہلک وائرس سے متاثر ہوگئے تھے۔

مصطفیٰ کمال نے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ تمام متاثرہ بچوں کا سراغ لگا کر انہیں رجسٹر کر لیا گیا ہے اور انہیں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی فراہم کی جا رہی ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار شامل ہیں، جن میں ڈرپس، کینولا اور سرنجز کا دوبارہ استعمال، جراثیم سے آلودہ طبی آلات اور بغیر اسکریننگ کے خون کی منتقلی شامل ہے، جو خاص طور پر بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر محفوظ طریقے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں کمزور نگرانی اور قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث جاری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس موذی وائرس کی روک تھام کے لیے انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر انفیکشن کنٹرول کے سخت اقدامات نافذ نہ کیے گئے اور غیر محفوظ طبی طریقوں کا خاتمہ نہ کیا گیا تو سندھ میں خدانخواستہ ماضی میں رپورٹ ہونے والے سانحات دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔