امریکی طیاروں کی نور خان ایئر بیس پر لینڈنگ، جے ڈی وینس کی چند گھنٹوں میں آمد متوقع

ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی وفد روانہ ہوگیا ہے، صدر ٹرمپ کی تصدیق
اپ ڈیٹ 20 اپريل 2026 07:59pm

امریکا کے کم از کم 6 فوجی طیاروں نے پاکستان کے نور خان ایئر بیس راولپنڈی میں لینڈنگ کی، جس کے بعد روانہ ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ساتھ چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔

قطرکے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ امریکی وفد، جس میں جے ڈی وینس سمیت دیگر اراکین شامل ہیں، چند گھنٹوں میں روانہ ہو کر آج رات اسلام آباد پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی بھی فریق کھیل تماشا نہیں کر رہا، بل کہ سنجیدہ مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو ہوتا ہے تو وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وفد پہلے ہی روانہ ہو چکا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم درست اور ذمہ دار افراد سے بات چیت کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایک مطالبے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، ایرانی ایٹمی بم نہیں بنائے گا، سیدھا سا معاملہ ہے، ایران اپنے نیوکلیئر ہتھیار سے جان چھڑائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے بات مانی تو ایران میں ترقی کرنے کی صلاحیت ہے۔

دوسری طرف فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی میں واقع پاکستان ایئر فورس کا نور خان ایئر بیس جو اسلام آباد کے لیے اہم وی آئی پی انٹری پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، وہاں امریکی فوج سے تعلق رکھنے والے کم از کم 6 طیارے پہنچے اور بعد ازاں واپس روانہ بھی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ان طیاروں میں مواصلاتی آلات، موٹرکیڈ سپورٹ اور اضافی سامان منتقل کرنے والے جہاز شامل تھے۔ ان طیاروں میں سے 2 طیارے آج لینڈ ہوئے جب کہ باقی 4 طیارے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران نور خان ایئر بیس پہنچے اور واپس روانہ ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں امریکی وفد کی آمد سے قبل ریکارڈ کی گئی ہیں تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں اور شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے بڑے حصوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جب کہ 20 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے 2 بڑے ہوٹلوں سرینا اور میریٹ کو خالی کروا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جہاں غیر ملکی وفود کی آمد متوقع ہے۔

واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی ختم ہونے میں 2 دن باقی ہیں تاہم امریکی نیوی نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم تلے رجسٹرڈ ایک بڑے تجارتی جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا، جس پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی تفصیلات بھی بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی نیوی نے ایرانی جہاز پر گائیڈڈ میزائل فائر کیا، جس سے جہاز کے انجن روم میں سوراخ ہو گیا۔ صدرٹرمپ کے مطابق توسکا نامی اس جہاز نے امریکی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کی تھی، اسی لیے اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت یہ جہاز امریکی نیوی کے قبضے میں ہے۔

اس صورتِ حال کے بعد ایران نے مذاکراتی ٹیم کو بھیجنے سے انکار کردیا، پیر کو ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے تہران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب امریکا پر مزید اعتماد نہیں کرسکتا کیونکہ واشنگٹن کا رویہ مسلسل غیر یقینی رہا ہے۔