جنگ یا جنگ بندی میں توسیع: 22 اپریل کے بعد کیا ہوگا؟
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جہاں 22 اپریل کے بعد کی صورتحال پر غیر یقینی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ جنگ بندی میں توسیع ہوگی یا خطے میں ایک بار پھر جنگ بھڑک اٹھے گی، اس حوالے سے امریکی حکام نے سرجوڑ لیے ہیں۔ دورانِ اجلاس صدر ٹرمپ نے پاکستان کے فیلڈ مارشم جنرل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ صدارت وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک ہنگامی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات، جنگ بندی کی ممکنہ مدت اور آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اہم امریکی عہدیدار کے مطابق اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں کوئی بریک تھرو حاصل نہ ہوسکا تو آئندہ چند روز میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔ اجلاس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ممکنہ عسکری حکمت عملی بھی زیر بحث آئی۔
یہ اہم اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی ختم ہونے میں صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں اور تاحال دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہو سکی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سمیت اعلیٰ فوجی اور انٹیلی جنس حکام نے شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق، نائب صدر جے ڈی وینس سے متعلق یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں خود حصہ لیں گے۔
ادھر ایران سے مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے امریکی اخبار کو انٹرویو میں اہم بیان دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس عہدیدار کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہوسکتی ہے اور امریکا پاکستان میں ایران سے مذاکرات کا منتظر ہے۔
خیال رہے کہ یہ بحران اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گیا جب ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ امریکا نے ناکہ بندی کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ حالانکہ اس سے محض چند گھنٹے پہلے صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ایک دو روز میں کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال کے پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے رواں ہفتے تہران میں ثالثی کے لیے اہم ملاقاتیں کی ہیں اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر اور ایرانی حکام سے کم از کم ایک بار فون پر براہِ راست بات بھی کی ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ہفتے کو تصدیق کی کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران نئی تجاویز پیش کی ہیں جن پر ایران غور تو کر رہا ہے لیکن اب تک کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے رویے پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے تھوڑی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی ہے اور وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایران ہمیں بلیک میل نہیں کر سکتا۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اب بھی ایران سے بات چیت کر رہا ہے اور انہیں آج دن کے اختتام تک معلوم ہو جائے گا کہ آیا فریقین کسی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والا حالیہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب دونوں فریقین ایران کے ایٹمی پروگرام اور یورینیم کے ذخیرے سے متعلق اختلافات کو کم کرنے میں کامیاب ہو رہے تھے۔
اب تمام تر نظریں ایران کے جواب اور پاکستان کی ثالثی پر لگی ہیں کیونکہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اگر بدھ تک کوئی مستقل حل نہ نکلا تو خطے میں امن کی امیدیں دم توڑ سکتی ہیں۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔