ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر مان گیا، مستقبل میں سپریم لیڈر سے ملاقات ہوسکتی ہے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مان گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا جب کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل ہیں اور مستقبل میں ان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے کسی موقع پر ملاقات ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے سخت گفتگو اور اختلافات کا اعتراف بھی کیا ہے۔
بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ”پوڈ فورس ون“ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے ہی اس بات پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کر رہی ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اس عمل سے آگاہ اور اس میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ طے پا جائے گا اور خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور سفارتی پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو اسرائیل شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا تھا۔ ان کے بقول ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایران کے حوالے سے امریکی فوجی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امریکا کو ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کافی نقصان پہنچا ہے اور زمینی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں میں استحکام آ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی متوقع ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کے ساتھ مسلسل کشیدگی اور فوجی کارروائیوں پر انہیں تشویش تھی اور اسی وجہ سے ان کی نیتن یاہو کے ساتھ سخت گفتگو ہوئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا لیکن لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر مجھے تشویش ضرور تھی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں ہفتے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک فون کال میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت پر ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر بھی بات ہوئی، جس دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اختلافات کے باوجود ان کے اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان تعلقات بدستور اچھے ہیں اور دونوں رہنما مختلف معاملات پر رابطے میں ہیں۔
امریکی صدر کے حالیہ بیانات کو ایران کے جوہری پروگرام، امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جب کہ عالمی سطح پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔














