تیل تنصیبات تباہ، ایئرپورٹس بند، کئی افراد زخمی؛ کویت پر نئے ایرانی حملوں میں کتنا نقصان ہوا؟
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی عسکری ٹھکانوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کویت میں متعدد اہم شہری اور تجارتی مقامات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
کویت کی فائر فورس نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ آج صبح ہونے والے ایرانی حملوں کے بعد دو مقامات پر لگی آگ بجھانے کے دوران ان کے متعدد فائر فائٹرز اور ایک عام ورکر زخمی ہو گئے ہیں۔
فائر فورس کا کہنا تھا کہ پہلے واقعے کے نتیجے میں، آگ بجھانے کے آپریشن کے دوران، فائر فائٹرز اور کارکنوں میں سے کچھ افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد اس جگہ کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا اور انہیں ضروری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس عسکری لہر میں کویت کا تیل کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کی سرکاری نیوز ایجنسی ’کونا‘ کے مطابق کویت پٹرولیم کارپوریشن نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تیل کے شعبے میں ایک انتہائی اہم اور فعال سائٹ کو ایران کے پے در پے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر مادی نقصان پہنچا ہے۔
کارپوریشن نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور متاثرہ جگہ کو خالی کرا لیا گیا ہے، جبکہ اس حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاست کے دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی کویت کی وزارتِ بجلی، پانی اور قابلِ تجدید توانائی نے بتایا کہ ایرانی حملوں کے تازہ دور کے بعد بجلی اور پانی صاف کرنے والے ایک بڑے پلانٹ کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔
وزارت کا کہنا تھا کہ اس حادثے کے فوراً بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر عسکری آپریشنل اقدامات کرنا پڑے، جن کے تحت پلانٹ اور اس کے ملازمین کی حفاظت کو برقرار رکھنے اور بجلی کے پورے نیٹ ورک کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کئی پیداواری یونٹس کو منقطع کرنا پڑا۔
وزارت نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ واقعے کے فوراً بعد تمام ہنگامی پلان فعال کر دیے گئے تھے تاکہ بجلی اور پانی کی سپلائی میں کوئی بڑا خلل نہ آئے۔
دوسری طرف، ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بڑے عسکری دعوے کیے ہیں۔
ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ ان کی بحری افواج نے کویت کی الاحمدی بندرگاہ پر امریکی بیڑے کے ایندھن فراہم کرنے والے گھاٹ کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ بحرین میں قائم شیخ عیسیٰ ایئربیس پر امریکی جنگی طیاروں کے جمع ہونے کے مرکز پر ڈرون اور میزائل داغے گئے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، ایران نے بحرین میں قائم امریکی انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹر، جسے ’بیٹل کو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اسے بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کویت میں امریکی سگنلز اور ٹیلی کمیونیکیشن سینٹر کو بھی ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔
ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی تکبر کے جرائم کے جواب میں انہوں نے بحرین میں ایئربیس کے ہوائی جہاز کے ہینگر، پارکنگ لاٹ اور ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے کیونکہ امریکا اس بیس کو علاقائی اہداف، خاص طور پر ہمارے ملک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا تھا۔
اس کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب نے ان تمام ممالک کو سخت وارننگ دی ہے جو اپنے ہاں امریکی عسکری افواج کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے ممالک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے سول ڈیفنس یونٹس کو فوری فعال کریں اور شہریوں کو ممکنہ فوجی اہداف سے دور لے جائیں، کیونکہ ان کی سرزمین کو ایران کے خلاف جارحیت کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایران کی زمینی افواج نے کویت میں قائم کیمپ عارفجان میں امریکی فوجی لاجسٹکس ہب کو بھی نشانہ بنا کر وہاں جانی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔
اس شدید ترین بمباری کے باعث سفری شعبہ بری طرح مفلوج ہو گیا ہے اور کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیاروں کے اترنے اور اڑان بھرنے کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
کویت کی قومی ایئرلائن کویت ائیرویز نے مسافروں کو آگاہ کیا ہے کہ فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے زیادہ تر پروازوں کے اوقات تبدیل کیے جا رہے ہیں۔
فضائی حدود کی یہ بندش اس سے قبل فروری سے اپریل کے درمیان دیکھی گئی کشیدگی کی یاد تازہ کرتی ہے، جب پورے خلیج کی فضائی حدود بند ہونے سے لاکھوں مسافروں کے لیے افراتفری پیدا ہو گئی تھی اور کچھ مسافر تو ہفتوں تک خطے میں پھنس کر رہ گئے تھے کیونکہ کوئی متبادل پرواز دستیاب نہیں تھی۔
موجودہ صورتحال انتہائی تیزی سے بدل رہی ہے لیکن خلیجی ممالک اس وقت کثیر جہتی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ ایک طرف تو اپنے شہریوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے محفوظ رکھنے کی یقین دہانیاں کرا رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر میزائل فضا میں ہی تباہ کیے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ عوام کو صرف سرکاری ذرائع سے معلومات لینے کا کہہ رہے ہیں تاکہ افواہوں سے بچا جا سکے۔
یہ ممالک ایک طرف ایران کے ان میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کر رہے ہیں اور دوسری طرف سفارت کاری اور بات چیت کی اپیل بھی کر رہے ہیں، مگر موجودہ حالات میں سفارت کاری کا کام انتہائی مشکل ہو چکا ہے کیونکہ امریکا یا ایران میں سے کوئی بھی فی الحال پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتا۔
اس دوران اردن کی مسلح افواج نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار ایرانی ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا ہے، اور اس کارروائی میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔













