ٹرمپ کی نیتن یاہو کو گالیاں؛ لڑائی کی خبروں کی حقیقیت کیا ہے؟

پسِ پردہ غصے کی ان خبروں کے باوجود اسرائیل کے لیے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے.
شائع 03 جون 2026 01:21pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو فون پر گالیاں دیے جانے اور لعن طعن کی خبریں بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں، لیکن ماہرینِ سیاست نے ان خبروں پر شک کا ظہار کیا ہے۔

حال ہی میں ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایک فون کال کے دوران انتہائی سخت الفاظ کہے اور لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں پر انہیں شدید جھاڑ پلائی.

تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پسِ پردہ غصے کی ان خبروں کے باوجود اسرائیل کے لیے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے.

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان تعلقات میں خرابی کی خبریں سامنے آئی ہوں.

اس سے قبل جنوری 2024 میں جب غزہ میں جنگ جاری تھی، تب اس وقت کے صدر جو بائیڈن کے بارے میں بھی ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان کا صبر جواب دے رہا ہے.

اب ٹرمپ کے دور میں بھی بالکل اسی نوعیت کی خبریں میڈیا کو خفیہ ذرائع سے فراہم کی جا رہی ہیں.

اس صورتحال پر نیشنل ایرانی امریکن کونسل ایکشن کے پالیسی ڈائریکٹر رائن کوسٹیلو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تو سیاسی مبصرین امریکی صدور کے نیتن یاہو پر بند کمروں میں غصہ ہونے کی رپورٹس کا مذاق اڑانے لگے ہیں، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ عملی طور پر زمین پر کیا ہو رہا ہے.

حقوق انسانی کی تنظیم ڈاؤن سے وابستہ ازابیل ہیسلپ بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ ٹرمپ کی غصیلی فون کالز کی کہانیاں حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں.

انہوں نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ کو ایک ایسے طاقتور رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو فون اٹھا کر نیتن یاہو کو امریکی پالیسی کی خلاف ورزی پر ڈانٹتا ہے، لیکن یہ بات عملی پالیسی کے نتائج سے بالکل الٹ ہے کیونکہ نیتن یاہو کو وہی کچھ مل رہا ہے جو وہ چاہتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا اسرائیلی اقدامات پر کوئی آخری اختیار نہیں ہے اور اپنے پیشرو رہنماؤں کی طرح وہ بھی امریکی مفادات کو ترجیح دینے میں مکمل ناکام رہے ہیں اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ خواہشات کے آگے جھک رہے ہیں.

یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے اندرونی طور پر سخت دباؤ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے.

ناقدین کا الزام ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ایک ایسی جنگ میں امریکا کو گھسیٹنے کی اجازت دی جو واشنگٹن کے مفاد میں نہیں ہے.

دوسری طرف ٹرمپ نے عوامی سطح پر ہمیشہ نیتن یاہو کی تعریف کی ہے اور انہیں ایک ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے.

اس تضاد پر بات کرتے ہوئے سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کی سینیئر فیلو نگار مرتضوی کہتی ہیں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کال کی یہ خبر جان بوجھ کر اس لیے باہر لائی گئی ہو گی تاکہ ٹرمپ کو اسرائیل کے خلاف سخت دکھایا جا سکے اور جنگ پر امریکی عوام کے غصے کو کم کیا جا سکے.

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہو سکتا ہے کہ دیکھو ہم اسرائیل سے بہت ناراض ہیں، ہم ان پر چلاتے ہیں اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں، لیکن اصل چیز بیانیے سے زیادہ پالیسی ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا اس سے زمین پر حقائق بدلتے ہیں؟

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک کثیر الجہتی جنگ ہے جو صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ انٹیلیجنس، بیانیے اور معلومات کی بھی جنگ ہے جس میں آدھی سچائیوں اور سٹریٹجک لیکس کا سہارا لیا جا رہا ہے.

دوسری جانب، ان خبروں کو چھاپنے والے ادارے نے اپنے مؤقف کا دفاع کیا ہے.

ایگزیوس کے ترجمان جیمی ولکنز کا کہنا ہے کہ ہم اپنی رپورٹنگ پر قائم ہیں اور ہم نے اپنی رپورٹ میں یہ واضح بھی کیا تھا کہ ماضی میں بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ گفتگو ہوتی رہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایران اور دیگر اہم معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں.

پالیسی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک امریکا کی طرف سے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور سفارتی تحفظ ملنا بند نہیں ہوتا، تب تک ایسی خبریں محض زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں ہیں.