سمندری پانی میٹھا بنانے والے پلانٹس پر ایران کے حملے خلیجی ممالک کے لیے کتنے خطرناک ہیں؟

زمین کے نیچے کا پانی اور سمندری پانی کو صاف کر کے بنایا جانے والا پانی مل کر اس خطے کے پانی کے ذرائع کا تقریباً 90 فیصد بنتے ہیں۔
شائع 19 جولائ 2026 03:19pm

خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس پر ہونے والے حملوں نے پورے خطے کی زندگی اور معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کویت نے حال ہی میں ایرانی افواج پر ملک کے ایک واٹر پلانٹ کو دوسری بار نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے، جس کے بعد خلیجی ممالک میں پینے کے پانی کی فراہمی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

خلیج کا موسم انتہائی گرم اور خشک ہے اور یہاں بارشیں بھی بہت کم ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کے قدرتی ذرائع پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

گلف ریسرچ سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق، زمین کے نیچے کا پانی اور سمندری پانی کو صاف کر کے بنایا جانے والا پانی مل کر اس خطے کے پانی کے ذرائع کا تقریباً 90 فیصد بنتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زمین کے نیچے کا پانی مزید کم ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ ممالک سمندری پانی صاف کرنے والے پلانٹس پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔

متحدہ عرب امارات سے لے کر کویت تک خلیج کے ساحلوں پر 400 سے زیادہ واٹر پلانٹس موجود ہیں جو دنیا کے اس سب سے خشک خطے کو پانی فراہم کرتے ہیں۔

ایک تحقیقی مقالے کے مطابق، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ ملک پوری دنیا میں سمندری پانی صاف کرنے کی کل صلاحیت کا 60 فیصد حصہ رکھتے ہیں اور دنیا کا 40 فیصد صاف پانی پیدا کرتے ہیں۔

کویت میں پینے کے پانی کا 90 فیصد، عمان میں 86 فیصد، سعودی عرب میں 70 فیصد اور متحدہ عرب امارات میں 42 فیصد پانی انہی پلانٹس سے آتا ہے۔

سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ صاف پانی پیدا کرنے والا ملک ہے۔

دوسری طرف، ایران بھی اپنے ساحلی علاقوں جیسے کہ جزیرہ قشم میں یہ پلانٹ استعمال کرتا ہے، لیکن اس کے پاس بہت سے دریا اور ڈیم موجود ہیں، اس لیے وہ ان پلانٹس پر اتنا زیادہ انحصار نہیں کرتا۔

خلیج کے ممالک میں یہ پلانٹس بنیادی طور پر سمندری پانی سے نمک، جڑی بوٹیاں اور دیگر آلودگی کو تھرمل یا میمبرین ٹیکنالوجی کے ذریعے الگ کر کے اسے پینے، زراعت اور صنعت کے قابل بناتے ہیں۔

خلیجی ملکوں میں سب سے زیادہ ریورس اوسموسس ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے کیونکہ اس میں توانائی کم خرچ ہوتی ہے۔

خلیجی امور کے ماہر اور ماحولیاتی محقق ناصر السید نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے اس نظام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ “1930 کی دہائی کے آخر میں تیل کی دریافت کے بعد، خلیجی ریاستوں کے پاس پانی کے قدرتی ذرائع اتنے نہیں تھے کہ وہ بڑھتی ہوئی آبادی اور معاشی سرگرمیوں کی ضرورت پوری کر سکیں، اسی لیے یہ پلانٹس لگائے گئے۔“

ناصر السید کے مطابق، ”خلیج کی ترقی میں اس صاف پانی کی اہمیت کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ان تنصیبات کو نشانہ بنانے یا ان میں خلل ڈالنے سے خطے کی معاشی استحکام اور ترقی شدید خطرے میں پڑ جائے گی“۔

انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ پانی بنیادی طور پر انسانوں کے پینے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کا ایک مضبوط انسانی پہلو بھی ہے اور یہ روزمرہ کی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، جس کی وجہ سے ان تنصیبات میں کوئی بھی خلل آبادی کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا“۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پلانٹس پر حملے کے اثرات ہر ملک کی اپنی جغرافیائی صورتحال پر منحصر ہیں۔

ناصر السید کے مطابق، سعودی عرب کے پاس وسیع جگہ ہے اور بحیرہ احمر پر موجود اس کی تنصیبات اسے تحفظ فراہم کرتی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کے پاس اپنی واٹر سیکیورٹی حکمتِ عملی کے تحت 45 دنوں کے پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ ”اس کے اثرات کویت، قطر اور بحرين جیسے چھوٹے ملکوں میں زیادہ شدت سے محسوس کیے جائیں گے جن کے پاس پانی کے اسٹریٹجک ذخائر بہت کم ہیں“۔

ناصر السید نے سب سے بڑے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”میری نظر میں سب سے اہم اثر نفسیاتی ہے۔ پانی انسانی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے، اور پانی ختم ہونے کا محض احساس ہی عوام میں خوف و ہراس پھیلا سکتا ہے، جو کہ موجودہ کشیدہ ماحول میں حکام کے لیے امن برقرار رکھنے کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ہے“۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی 2010 میں شائع ایک پرانی رپورٹ میں بھی یہ وارننگ دی گئی تھی کہ ان عرب ممالک میں واٹر پلانٹس کی تباہی کے نتائج کسی بھی دوسری صنعت یا چیز کے نقصان سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ماضی میں، 1990-1991 کی خلیجی جنگ کے دوران عراقی افواج نے جان بوجھ کر کویت کے واٹر پلانٹس کو تباہ کر دیا تھا، جس سے پانی کی فراہمی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

ہائیڈرولوجسٹ راحا حاکمدوار نے الجزیرہ کو بتایا کہ طویل مدت میں ان پلانٹس پر حملے مقامی سطح پر خوراک کی پیداوار کو بھی متاثر کر سکتے ہیں جو زیادہ تر زمین کے نیچے کے پانی پر چلتی ہے۔

راحا حاکمدوار، جو قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی اور ارتھ کامنز میں ڈیڈز کی سینئر ایڈوائزر ہیں، انہوں نے کہا کہ “دیگر ضروریات کے دباؤ کی وجہ سے یہ پانی زراعت سے ہٹا کر شہریوں کو دینا پڑ سکتا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ ”یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ یہ خطہ اپنی خوراک کے لیے بیرونی ممالک سے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے اسے پہلے ہی غذائی تحفظ کے چیلنجز کا سامنا ہے“۔

ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کے پاس فی الحال اس نظام کا کوئی فوری متبادل نہیں ہے۔

اس بحران سے نمٹنے اور واٹر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ناصر السید نے مشورہ دیا کہ جی سی سی کے ممالک کو پانی کے تحفظ کو کسی ایک ملک کا ذاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک مشترکہ علاقائی معاملہ سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ”ممالک کو آپس میں قریبی رابطہ قائم کرکے مل کر کام کرنا ہوگا، جی سی سی کے پاس پانی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم موجود ہے لیکن اس کا پورا فائدہ نہیں اٹھایا گیا“۔

انہوں نے بتایا کہ جی سی سی کی واٹر اسٹریٹجی 2035 کے تحت تمام ملکوں کے لیے سال 2020 تک توانائی اور پانی کا ایک مربوط پلان بنانا لازمی تھا، مگر یہ اب تک حاصل نہیں ہو سکا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ”چاہے پانی کے نیٹ ورکس کو آپس میں جوڑنا ہو، پانی کے علاقائی ذخائر کو شیئر کرنا ہو، یا پانی کے ذرائع کو تبدیل کرنا ہو، یہی خلیج کی واٹر سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کا نیا راستہ ہے“۔

دوسری طرف، راحا حاکمدوار کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک پانی کے بڑے ذخائر پر بھروسہ کر سکتے ہیں جو شہروں کو کئی دنوں تک پانی دے سکیں، اور اس کے ساتھ ہی انہیں دھوپ یا ہوا کی توانائی سے چلنے والے چھوٹے واٹر پلانٹس لگانے چاہئیں تاکہ چند بڑے پلانٹس پر انحصار کم کیا جا سکے۔