ایران کے کویت میں دو امریکی فوجی اڈوں پر حملے، اہواز میں جدید ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے ایرو اسپیس فورس کی جانب سے جنوب مغربی شہر اہواز کے اوپر ایک امریکی ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اہواز پر پرواز کرنے والے امریکی ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے گرایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں ان امریکی حملوں کا ردعمل ہیں جن میں شہری اہداف اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ گزشتہ 8 روز کے دوران تباہ ہونے والا چوتھا امریکی ڈرون ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون ہے جنہیں جدید اور مہنگے بغیر پائلٹ طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ڈرونز نگرانی کے علاوہ حملوں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔
ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 150 سے زائد امریکی ڈرونز کو تباہ کیا جا چکا ہے، جن میں تقریباً 30 ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرونز بھی شامل ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجریزہ کی ایک رپورٹ میں 2024 کے تخمینوں کے مطابق ایک ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون کی اوسط قیمت تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ اگر ایران کے چار ماہ کے دوران 30 ڈرونز کی تباہی کے دعوے کو درست مانا جائے تو صرف ڈرونز کی مد میں امریکا کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرجاتا ہے۔
ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللٰہی نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے جاری رہے تو ایرانی مسلح افواج مزید سخت جواب دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کو اس مقام تک پہنچانے کی سکت رکھتا ہے جہاں اس کے نقصانات کا تخمینہ گزشتہ دو مراحل پر مشتمل کارروائیوں سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی فوج کی جانب سے مسلسل آٹھ روز سے ایران کے مختلف علاقوں پر حملے جاری ہیں۔ جواب میں ایران بھی خطے میں واقع امریکی فوجی اہداف پر جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی فوج نے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ آپریشن ’تھنڈربولٹ‘ کے 16ویں اور 17ویں مرحلے کے تحت کویت میں واقع دو بڑے امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں خودکش ڈرونز استعمال کیے گئے اور امریکی فوج کے اسٹریٹجک اثاثوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق آپریشن کے 16ویں مرحلے میں کیمپ اُدیری میں قائم امریکی اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جب کہ علی السالم ایئر بیس پر نصب پیٹریاٹ ریڈار اور فضائی نگرانی کے ریڈار پر بھی حملے کیے گئے۔
بیان کے مطابق کیمپ اُدیری خطے میں امریکا کے اہم ترین فوجی اڈوں میں سے ایک ہے جو ایران کی سرحد سے تقریباً 104 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور امریکی افواج کی معاونت اور ازسرِ نو تنظیم کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس اڈے کو نشانہ بنانے سے خطے میں امریکی فوجی معاونت کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ایرانی فوج نے علی السالم ایئر بیس کو بھی امریکی فوج کے لیے فضائی نقل و حمل کا ایک اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مغربی ایشیا میں فوجی دستوں کی تعیناتی اور لاجسٹک سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
بیان کے مطابق اتوار کی صبح آپریشن کے 17ویں مرحلے میں ایک بار پھر کیمپ اُدیری کے اسلحہ ڈپو کے علاوہ علی السالم ایئر بیس میں موجود فوجی سازوسامان کے گوداموں اور اہلکاروں کی پناہ گاہوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب کویتی حکام نے بتایا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے ایک پلانٹ پر دو روز کے دوران دوسری مرتبہ حملہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پلانٹ کے بعض حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
کویت کی وزارتِ توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ اس حملے میں آگ سے بجلی پیدا کرنے والے متعدد یونٹس متاثر ہوئے ہیں، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
بحرین کی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اتوار کو ایران کی جانب سے کیے گئے متعدد میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے ہیں۔
اس سے قبل ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے خوزستان صوبے میں زیرِ تعمیر دارخوین ایٹمی بجلی گھر پر متعدد حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ تنظیم کے مطابق یہ حملے مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر 39 منٹ پر ہوئے۔ دارخوین جوہری بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز 2022 میں کیا گیا تھا اور منصوبہ تاحال تکمیل کے مراحل میں ہے۔
گزشتہ روز امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے اردن کے موفق السلطی ایئربیس پر ایرانی حملے میں دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد اس جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جب کہ 420 سے زائد اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔














