'ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو'، ٹرمپ کی امریکی فوج کو سخت ہدایت

ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے: ٹرمپ
شائع 19 جولائ 2026 12:37pm

ایران کے حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکی فوج کو کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی میڈیا کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اردن میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، دونوں فوجیوں نے اپنے وطن کے لیے جان قربان کی اور قوم ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا بنیادی مقصد ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ ایسے ہتھیار نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجیوں پر ہونے والے حملوں کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اردن میں واقع امریکی ایئربیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت جب کہ ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔

سینٹ کام نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے دوران اردن میں تعینات دو امریکی فوجی ہلاک جب کہ ایک اہلکار لاپتا ہو گیا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے حملوں میں 29 امریکی فوجی زخمی ہوئے جبکہ متعدد ہیلی کاپٹر شدید متاثر ہوئے اور فوجی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔

ایران کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں عراق کے شہر اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب دھماکا خیز ڈرون تباہ کیا، کویت میں امریکی لاجسٹک مرکز، کیمپ اور ایئربیس کے ریڈار سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ہینگرز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔