ایران کے خلیجی ممالک پر نئے جوابی حملے، ہلاک امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہوگئی

پاسدارانِ انقلاب کے ان دستوں کے خلاف کارروائی کی گئی جنہوں نے ایک دن قبل اردن میں امریکی فوجیوں پر حملہ کیا تھا: سینٹ کام
شائع 19 جولائ 2026 09:36am

امریکا نے ایران پر مسلسل آٹھویں رات بمباری کی ہے، جس کے جواب میں تہران نے بھی خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر 18 جولائی کی رات ساڑھے گیارہ بجے ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور دور مکمل کیا گیا ہے۔‘

سینٹ کام نے بتایا کہ ان فضائی حملوں میں ایرانی فوج کی ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور میزائلوں و ڈرونز کے ذخیرہ کرنے والے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔

سینٹ کام کے مطابق، یہ کارروائی ان پاسدارانِ انقلاب کے دستوں کے خلاف بھی کی گئی جنہوں نے ایک دن قبل اردن میں امریکی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔

سینٹ کام نے تصدیق کی کہ جمعہ کے روز اردن میں ہونے والے ایرانی حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتہ ہے۔

ایران کی نیوز ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق امریکا نے جنوبی ایران میں سریک کے مقام پر حملہ کیا ہے، تاہم وہاں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اس جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جبکہ 420 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”ان کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے“۔

امریکا کی جانب سے ایرانی پلوں، بجلی گھروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد ایران نے بھی ہفتے کے روز سعودی عرب، اردن اور دیگر خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنایا۔

اس کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ٹریول الرٹ جاری کر دیا ہے کیونکہ فضائی حدود کی بندش سے سفری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ریاستی میڈیا پر جاری ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بالکل بے اعتبار ہیں۔

انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ”امریکا کو اس کی اس سے بھی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور مزید ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا“۔

واضح رہے کہ رہبرِ اعلیٰ اس وقت کہاں موجود ہیں، یہ ایک معمہ بنا ہوا ہے۔

اس پوری جنگ کا سب سے اہم مقصد آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا ہے جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکا آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے“۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکا نے بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان جہازوں کو روک رہا ہے جو اس کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

اس دوران یورپی یونین اور خلیجی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری جہاز رانی میں مداخلت اور تمام حملے فوری طور پر بند کرے اور بغیر کسی فیس یا شرط کے اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھے۔

ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں میں امریکی حملوں کی وجہ سے ایران میں 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔