ایرانی افواج کے پاس میزائلوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے: نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

ایران کے مسلسل حملوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو درپیش خطرات میں اضافہ کر دیا: امریکی اخبار
اپ ڈیٹ 19 جولائ 2026 01:32pm

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں اردن ایک نئے محاذ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے گزشتہ پانچ روز کے دوران اردن میں موجود امریکی افواج کو چار بڑے حملوں میں نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ متعدد ہیلی کاپٹرز متاثر ہوئے۔

نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ مسلسل حملوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو درپیش خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق اردن میں ہونے والے یہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایرانی افواج کے پاس اب بھی میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی ایرانی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے مختلف مقامات پر حملوں کا سلسلہ خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ایرانی کارروائیوں کے جواب میں اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

امریکی حکام نے بتایا کہ گزشتہ پانچ دنوں میں پہلا حملہ کنگ فیصل ایئربیس کی رہائشی عمارت پر ہوا، جس میں 5 امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ دوسرے حملے میں مشرقی اردن کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر موجود تھے اور کئی ہیلی کاپٹرز کو نقصان پہنچا۔

حکام کے مطابق اس کے بعد عراق کی سرحد کے قریب واقع موفق السلتی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا، جہاں جمعے کو ہونے والے حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن کے ازرق ایئربیس پر امریکی اڈے کے ایندھن کے ذخائر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا، جبکہ ایران کے پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس کے مطابق میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے طیاروں کے شیلٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فضائیہ کے سابق جنرل ڈیوڈ ڈیپٹولا نے کہا کہ یہ صرف ایک فوجی اڈے پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ امریکا کے علاقائی اتحاد کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی تاکہ امریکی فوج کی میزبانی کی سیاسی قیمت بڑھائی جا سکے۔

پینٹاگون نے حملوں پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والے ایرانی پاسداران انقلاب کو نشانہ بنایا جا سکے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔

واضح رہے کہ اردن خطے میں امریکا کا ایک اہم اتحادی ملک ہے جہاں امریکی فوجی دستے مختلف سیکیورٹی اور دفاعی مشنز کے لیے موجود ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔