پی ٹی اے کی غیر قانونی طبی اشیاء کی فروخت میں ملوث ڈیجیٹل مواد کے خلاف کارروائی

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ رپورٹ کردہ پیجز اور گروپس کو جلد از جلد ہٹانے کے لیے فعال طور پر رابطہ کیا جا رہا ہے: پی ٹی اے
شائع 23 اپريل 2026 12:45pm

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کے ذریعے طبی اشیاء کی غیر قانونی فروخت کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ مواد ہٹوانے کا اعلان کیا ہے۔ ان طبی اشیاء میں ادویات، طبی آلات اور ویکسین شامل ہو سکتی ہیں۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق پی ٹی اے نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی درخواست پر ایسی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جو غیر مجاز اور غیر رجسٹرڈ طبی اشیاء کی فروخت میں ملوث تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ ”پی ٹی اے نے نشاندہی کیے گئے مواد تک رسائی کو روکنے کے لیے ضروری نافذ العمل اقدامات کیے۔ متعلقہ ویب سائٹس نے غیر قانونی مصنوعات کو ہٹانے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ رپورٹ کردہ پیجز اور گروپس کو جلد از جلد ہٹانے کے لیے فعال طور پر رابطہ کیا جا رہا ہے۔“

اتھارٹی نے مزید کہا کہ ”پی ٹی اے عوامی صحت کے تحفظ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قومی ریگولیٹری کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے، اور متعلقہ قوانین و ضوابط کے مطابق بروقت کارروائی جاری رکھے گی۔“

دوسری جانب، مقامی ادویات سازوں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی مارکیٹ میں اسمگل شدہ اور جعلی ادویات کی فروخت میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ متعلقہ حکام نے گزشتہ ایک سال کے دوران کینسر، دل اور بلڈ پریشر سمیت دیگر نئی اور جدید ادویات کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے۔

مینوفیکچررز کے مطابق، انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت سے تقریباً 80 سے 90 ادویات کی ریٹیل قیمتیں مقرر کرنے کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ ڈریپ اور متعلقہ پرائسنگ کمیٹی پہلے ہی ان نئی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دے چکی ہے، تاہم ملک کے اعلیٰ ترین ادارے، یعنی وزیراعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کی جانب سے حتمی منظوری ابھی باقی ہے، جس میں کافی طویل عرصہ لگ رہا ہے۔