صدر ٹرمپ کا ایران سے متعلق سخت مؤقف، پابندیاں اور منجمد اثاثے معاہدے سے مشروط
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تعلقات اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی باقاعدہ امن معاہدے سے قبل نہ پابندیاں ختم کی جائیں گی اور نہ ہی منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے۔
اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے پروگرام ”Meet the Press“ کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ”انتہائی قریب“ ہیں تاہم وہ ایران سے مزید رعایتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو امریکا اور ایران مشترکہ طور پر کارروائی کریں گے اور افزودہ یورینیم کو یا تو موقع پر ہی تلف کیا جائے گا یا اسے منتقل کر کے ختم کیا جائے گا۔ ان کے بقول ہم ان کے ساتھ جائیں گے یا ان کے بغیر لیکن ہم محفوظ ہوں گے اور ہم پر کوئی فائرنگ نہیں ہو گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا ایران کی عسکری صلاحیت کو ”انتہائی سخت طریقے سے“ کم کرے گا اور پھر اس کے بعد زمینی یا فوجی کارروائی کے ذریعے اقدامات کیے جائیں گے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس خلائی نگرانی کے جدید نظام موجود ہیں جن کی مدد سے ایران میں سرگرمیوں کی مکمل نگرانی کی جا سکتی ہے۔
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا اور تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی اس مشن کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ فوجی اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک ”مکمل نتیجہ“ حاصل نہیں ہو جاتا۔
ایران کی قیادت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ موجودہ قیادت پہلے کے مقابلے میں زیادہ ”معقول“ اور ”سمجھدار“ ہے اور وہ معاہدے کے عمل میں شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ نئے ایرانی رہنما کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں تاہم ابھی کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہوا۔
انہوں نے سابق امریکی صدر اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیا معاہدہ اس سے مختلف ہوگا اور ایران کے اثاثے فوری طور پر منجمد نہیں کیے جائیں گے بلکہ یہ عمل بعد میں ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم اس کے پاس اب بھی میزائل اور ڈرونز موجود ہیں۔
امریکی صدر نے انٹرویو کے اختتام پر کہا کہ امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی صورت میں ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی صرف حتمی اور مکمل معاہدے کے بعد ہی ممکن ہوگی، ان کے مطابق فی الحال کسی عارضی یا قلیل مدتی معاہدے پر غور نہیں کیا جا رہا۔
دوسری جانب ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مشیر محسن رضائی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور مبینہ جنگ کے تناظر میں امریکہ کی جانب سے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثوں کی واپسی ضروری ہے، اور تہران اس مطالبے پر قائم ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزارتِ خزانہ ایران کے منجمد اثاثوں کے ممکنہ استعمال پر غور کر رہی ہے، جنہیں بعض خلیجی اتحادی ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کی تجاویز بھی زیر بحث ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک خصوصی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ خطے میں ہونے والے حالیہ حملوں کے باعث ہونے والے مالی نقصانات کا تخمینہ لگائے، تاکہ مستقبل کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق امریکا کا یہ سخت مؤقف ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں اور خطے میں جاری کشیدگی میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
















