حد سے زیادہ ریلز اور شارٹس دیکھنا آنکھوں اور دماغ کے لیے خطرناک کیوں ہے؟

ریلز اور شارٹس کا بڑھتا رجحان آنکھوں اور دماغی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
شائع 07 جون 2026 11:31am

موجودہ دور میں مختصر دورانیے کی ویڈیوز، انسٹاگرام ریلز اور یوٹیوب شارٹس ڈیجیٹل دنیا پر راج کر رہی ہیں۔ یہ ویڈیوز صارفین کو فوری تفریح فراہم کرتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فلمی کلپس سے لے کر مشہور شخصیات کے انٹرویوز تک، اب انٹرنیٹ کا بیشتر مواد ان چند سیکنڈز کی عمودی ویڈیوز میں سمٹ چکا ہے۔ اگرچہ اسکرین کو گھمائے بغیر مسلسل اسکرولنگ کرنا انتہائی آسان اور پرکشش محسوس ہوتا ہے، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت ہماری آنکھوں اور دماغ کے افعال کو خاموشی سے تبدیل کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق موبائل فون کی چھوٹی اسکرین پر مسلسل نظریں جمائے رکھنے سے آنکھوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ روشن اسکرین کو قریب سے دیکھنے کے باعث پلکیں جھپکنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں آنکھوں میں خشکی، جلن، دھندلا پن اور سر درد جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ طویل وقت تک فون استعمال کرنے سے گردن اور کندھوں کے درد سمیت نظر کی کمزوری کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ماہرین کے نزدیک اسمارٹ فونز کی چھوٹی اسکرینوں پر مسلسل ایسی ویڈیوز دیکھنا آنکھوں کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کرتا ہے،تیز رفتار ویڈیوز میں مسلسل بدلتے مناظر، چمکدار رنگ، بڑی بڑی تحریریں اور اچانک آنے والے بصری اثرات آنکھوں اور دماغ کو مسلسل متحرک رکھتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف آنکھوں کی تھکن میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ذہنی تھکاوٹ اور توجہ کی کمی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

مختصر ویڈیوز کے تیز کٹس، اچانک بدلتے مناظر اور اسکرین پر ابھرنے والی تحریریں آنکھوں اور دماغ کو مسلسل اور تیزی سے ایڈجسٹ ہونے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان ’بصری طور پر بے صبرا‘ ہو جاتا ہے۔ بعد میں جب ایسے شخص کو کوئی دھیمی رفتار والی سرگرمی، جیسے کتاب پڑھنا یا پڑھائی کرنا ہو، تو اسے وہ کام انتہائی بورنگ اور تھکا دینے والا لگتا ہے اور وہ تحریر کے بڑے پیراگراف پڑھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

آنکھوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ماہرین کے مشورے

ماہرین کے مطابق اگر آپ اسکرین کے زیادہ استعمال سے ہونے والی آنکھوں کی تھکن اور توجہ میں کمی سے بچنا چاہتے ہیں تو روزمرہ عادات میں چند آسان تبدیلیاں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

اس مقصد کے لیے 20-20-20 اصول اپنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، یعنی ہر 20 منٹ بعد 20 سیکنڈ کا وقفہ لیں اور تقریباً 20 فٹ دور کسی چیز کو دیکھیں۔ اس عادت سے آنکھوں کے پٹھوں کو آرام ملتا ہے اور مسلسل اسکرین دیکھنے سے پیدا ہونے والا دباؤ کم ہوتا ہے۔

ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ موبائل یا لیپ ٹاپ استعمال کرتے وقت درست نشست اختیار کی جائے۔

اسکرین استعمال کرتے وقت شعوری طور پر بار بار پلکیں جھپکائیں تاکہ آنکھوں میں نمی برقرار رہے۔

رات کو بستر پر جانے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے فون یا کسی بھی اسکرین کا استعمال مکمل بند کر دیں۔

ہر وقت ویڈیوز دیکھنے کے بجائے معلومات حاصل کرنے کے لیے آڈیو مواد یا پوڈ کاسٹ سننے کی عادت ڈالیں، تاکہ آنکھوں کو آرام ملے اور دماغ مسلسل بصری دباؤ سے محفوظ رہ سکے۔

ان چھوٹی مگر مؤثر عادات کے ذریعے نہ صرف آنکھوں کی صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے بلکہ توجہ اور ذہنی یکسوئی میں بھی اضافہ ممکن ہے۔

(نوٹ: یہ رپورٹ صرف عام معلومات کے لیے ہے، کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں ہمیشہ اپنے معالج یا ماہرِ امراضِ چشم سے رجوع کریں۔)