ایران کا یوکرین کے ساتھ نیا تنازع؛ معاملہ کیا ہے؟
ایران نے یوکرین پر بحیرہ خزر (کیسپین سی) میں اپنے ایک تجارتی جہاز پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں جہاز کا ایک ایرانی اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا ہے۔
یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ”کیف نے بحیرہ خزر میں دور تک مار کرنے والے حملوں سے بہترین نتائج حاصل کیے ہیں، جن میں ایران سے ملٹری کارگو کی ترسیل میں استعمال ہونے والے بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ ایک جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے“۔
اس کے ساتھ ہی زیلنسکی نے ایک اور بیان میں روس پر الزام لگایا کہ وہ خلیجی ممالک اور وہاں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ تصاویر ایران کو فراہم کر کے اس کی فوجی مہم میں مدد کر رہا ہے۔
اس واقعے کے فوری بعد تہران میں ایران کی وزارت خارجہ نے یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور اس اقدام کو معاندانہ، مجرمانہ اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کے شعبہ خارجہ کے سربراہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ”بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس حملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور اس کی مذمت کرنی چاہیے“۔
یاد رہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے آغاز سے ہی یوکرین یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ ایران روس کو ہزاروں شاہد ڈرونز فراہم کر کے یوکرینی شہروں پر فضائی حملوں میں مدد دے رہا ہے۔
اس کے علاوہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد سے یوکرین نے مشرق وسطیٰ کے متاثرہ ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خلیجی ریاستوں میں اپنے فوجی اہلکار بھی بھیجے ہیں تاکہ وہ شاہد ڈرونز کو ہوا میں ہی تباہ کرنے میں مقامی فورسز کی مدد کر سکیں۔












