یہودی آبادکاروں کے فلسطینی دیہاتوں پر حملے، مکانات اور مساجد کو آگ لگا دی
مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی شہریوں نے اتوار کی صبح متعدد فلسطینی دیہاتوں پر حملے کیے ہیں۔ اس دوران مسلح اسرائیلوں نے مکانات اور املاک کے علاوہ دو مساجد کو آگ لگائی اور عمارتوں پر عبرانی زبان میں ’یہودیوں کا انتقام‘ کے نعرے تحریر کیے۔ اقوام متحدہ اور فلسطینی اتھارٹی کے مطابق رواں سال قابض یہودیوں کے حملوں میں درجنوں فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے نابلس کے گاؤں ’قصرہ‘ کی مقامی کونسل کے سربراہ عبدالعظیم وادی نے بتایا کہ اتوار کو یہودی آبادکاروں نے گاؤں پر علی الصبح حملہ کیا اور نوتعمیر شدہ مسجد کو بھی آگ لگا دی۔
ان کے مطابق حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے، جن میں ’یہودی انتقام‘ کے الفاظ اور گزشتہ روز جھڑپوں فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے ایک اسرائیلی کا نام بھی شامل تھا۔
عبدالعظیم وادی نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کا گاؤں 2011 سے مسلسل ایسے حملوں کا سامنا کر رہا ہے اور غزہ میں جنگ کے بعد سے ان واقعات میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق آبادکاروں نے طولکرم شہر کے جنوب مشرق میں واقع گاؤں ’کور‘ کے قریب ایک اور مسجد کو بھی نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی۔
گاؤں کی مقامی کونسل کے رکن فرید جیوسی نے بتایا کہ تین آبادکاروں نے علی الصبح مسجد کو آگ لگانے کی کوشش کی تاہم نمازیوں نے آگ کو بروقت بجھا دیا، جس کے باعث آگ مسجد کے مرکزی حصے تک نہیں پہنچ سکی۔ حملہ آوروں نے یہاں بھی مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے لکھے۔
اس واقعے سے قبل جمعے کے روز بھی مسلح اسرائیلی آبادکاروں کا ایک گروپ نابلس میں واقع گاؤں ’تل‘ میں داخل ہو کر فلسطینیوں کے گھروں اور املاک پر حملہ کیا۔ یہ علاقہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مشترکہ کنٹرول میں ہے تاہم اس علاقے میں غیر قانونی یہودی بستیاں موجود نہیں ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہودی آبادکاروں کے گاؤں میں داخل ہونے کے بعد مقامی لوگ اپنے دفاع کے لیے گھروں سے باہر نکل آئے، اس دوران خونریز جھڑپوں میں 4 فلسطینی شہید اور 2 اسرائیلی ہلاک ہوگئے۔
فلسطینی وزیراعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پر ان واقعات کی ویڈیوز جاری کرتے ہوئے فلسطینی آبادیوں پر اسرائیلی سرپرستی میں یہودی آبادکاروں کے منظم حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔
بیان کے مطابق حالیہ حملے میں مساجد، مکانات اور املاک کو نذرِآتش کیا گیا جب کہ حملے میں زخمی شہریوں کو اسپتال پہنچانے کے لیے ایمبولینسز کا راستہ بھی بلاک کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے حمایت یافتہ یہودی آبادکاروں کے مقبوضہ مغربی کنارے میں شہریوں پر منظم حملے دہشت گردی ہیں۔
اس واقعے کے بعد اسرائیلی فورسز نے حملہ آوروں کے خلاف ایکشن کے بجائے مقبوضہ مغربی کنارے میں وسیع پیمانے پر کارروائیوں کے دوران درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔
حراست میں لیے گئے افراد میں سے 40 سے زیادہ کا تعلق نابلس کے قصبے ’تَل‘ سے تھا جہاں اسرائیلی آباد کاروں کے حملے کے بعد جھڑپیں ہوئی تھیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مسلح آبادکار اکثر اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی میں حملے کرتے ہیں اور فوج انہیں روکنے کے لیے کوئی مداخلت نہیں کرتی۔ تنظیم کے مطابق ایسے حملہ آوروں کو اکثر اسرائیلی ریاست کی مالی، مادی اور قانونی معاونت بھی حاصل ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ان جھڑپوں کی سامنے آنے والی ویڈیوز میں بھی یہودی آبادکاروں کو اسلحہ تھامے فوجی طرز کے لباس میں ملبوس دیکھا جاسکتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق یہ عام اسرائیلی شہری ہیں جنہیں اسرائیل کی انتہا پسند حکومت نے ’سول ڈیفنس اسکواڈز‘ کا نام دے کر باقاعدہ فوجی طرز کے ہتھیار، یونیفارم اور خصوصی سیکیورٹی پاورز دے رکھی ہیں۔ جمعے کے روز ’تل‘ گاؤں پر پہلا حملہ انہی مسلح شہریوں نے کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے ادارے مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں، تاہم اسرائیل ڈھٹائی کے ساتھ ان علاقوں پر قابض ہے اور ان غیر قانونی بستیوں کو وسعت دینے کی کوشش کرتا آیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے واقعے کے بعد قصرہ میں دیواروں پر تحریر نعرے اور آگ لگانے کا جائزہ لیا جب کہ مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ بیان کے مطابق اسرائیلی فوج مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے اور اس قسم کے واقعات کی سخت مذمت کرتی ہے اور امن و امان کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔
اس واقعے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے علاقے میں قائم غیر قانونی چوکیوں کو قانونی حیثیت دینے اور نئی بستیاں قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جب کہ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل سموتریچ نے ان دونوں دیہاتوں کے قریب نئی بستی قائم کرنے اور اس علاقے کو مکمل اسرائیلی کنٹرول میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب یورپی ملک اسپین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی آبادی پر حملوں کی شدید مذمت کرتے یوئے اسرائیلی حکومت سے حملوں میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے مطالبہ کیا ہے۔
ہسپانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی آبادکار مسلسل فلسطینی شہریوں پر حملے کر رہے ہیں اور انہیں عملاً استثنیٰ حاصل ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کو نئی یہودی بستیوں کی توسیع اور یہودی آبادکاروں کی سرپرستی کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔













