جان کا خطرہ: کھُلنے کے ایک مہینے بعد دوائی کو پھینک دینا کیوں ضروری ہے؟

دوا استعمال کرنے سے پہلے ہمیشہ اس کے لیبل یا پیکٹ پر دی گئی ہدایات ضرور پڑھیں۔
شائع 19 جولائ 2026 12:30pm

اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوا اس تاریخ تک محفوظ رہے گی۔ لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کچھ دوائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی حفاظت اور اثر کھولنے کے بعد کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، چاہے ان کی ایکسپائری ڈیٹ باقی ہی کیوں نہ ہو۔

ہم میں سے اکثر لوگ گھروں میں کھانسی کا شربت یا آنکھ میں ڈالنے والے قطرے ایک بار استعمال کرنے کے بعد الماری میں رکھ دیتے ہیں۔ کچھ ہفتوں یا مہینوں بعد جب دوبارہ ضرورت پڑتی ہے، تو ہم صرف اس کی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر اسے دوبارہ استعمال کر لیتے ہیں۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔ بعض دوائیاں ایسی ہوتی ہیں جو کھلنے کے چند دنوں یا ہفتوں کے اندر ہی اپنی طاقت کھو دیتی ہیں یا پھر خراب ہو کر نقصان دہ بن جاتی ہیں۔ اس لیے صرف لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھنا ہی کافی نہیں ہوتا۔

ڈاکٹروں کے مطابق جب بھی ہم کسی دوا کی شیشی، ٹیوب یا ڈراپر کا ڈھکن کھولتے ہیں، تو اس کے اندر باہر کی ہوا، نمی اور جراثیم چلے جاتے ہیں۔ بار بار ڈھکن کھولنے سے دوا کو جراثیم سے بچانے والے کیمیکل کمزور پڑ جاتے ہیں اور شربت یا قطرے میں باریک جراثیم پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی شربت کا رنگ یا بو بدل جائے، کوئی کریم پھٹ جائے یا گولی نرم ہو کر چورا ہونے لگے، تو سمجھ جائیں کہ یہ اب استعمال کے قابل نہیں رہی۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر دوا کھولنے کے ایک مہینے بعد پھینک دینی چاہیے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ قانون ہر دوا پر لاگو نہیں ہوتا۔ انڈیا ٹوڈے نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی دہلی کے شعبہ اطفال اور نیونیٹولوجی کے سربراہ ڈاکٹر سنجے کے جین کا کہنا ہے کہ ہر دوا کے لیے ایک ہی اصول لاگو نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق کئی عام استعمال کی جانے والی دوائیں مناسب طریقے سے محفوظ رکھنے پر ایکسپائری ڈیٹ تک استعمال کی جا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر جین نے کہا، ”کچھ سیرپ جیسے کھانسی کی دوا، پیراسیٹامول سیرپ، وٹامن سیرپ اور دیگر عام دستیاب سیرپ عام طور پر ایکسپائری ڈیٹ تک استعمال کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں صحیح طریقے سے رکھا گیا ہو اور ان کے رنگ، بو یا شکل میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہو۔“

انہوں نے مزید بتایا کہ گولیاں اور کیپسول بھی اکثر اپنی اصل پیکنگ، خاص طور پر بلیسٹر پیک میں، محفوظ رہتے ہیں اور انہیں ہدایات کے مطابق رکھنے کی صورت میں ایکسپائری ڈیٹ تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تاہم کچھ دوائیں ایسی ہیں جن کی مدت کھولنے کے بعد بہت کم ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر وہ اینٹی بایوٹک سیرپ جو پاؤڈر کی شکل میں ہوتے ہیں اور استعمال سے پہلے ان میں پانی ملانا پڑتا ہے، انہیں زیادہ دن تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔

ایسی اینٹی بایوٹک دوائیوں کو تیار ہونے کے بعد صرف 7 سے 14 دن تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد اگر دوا باقی بھی ہو تو اسے پھینک دینا چاہیے۔ اگر ایسی دوا کا رنگ بدل جائے یا بوتل کے اندر ذرات نظر آئیں تو اسے فوراً ضائع کر دینا چاہیے۔

اسی طرح آئی ڈراپس اور انسولین کے ٹیکوں کا معاملہ بھی بہت نازک ہوتا ہے۔ آنکھ کے قطرے کھولنے کے بعد عام طور پر 28 دنوں کے اندر ختم یا ضائع کر دینے چاہئیں کیونکہ بار بار آنکھ کے قریب لے جانے سے دوا کی نوک پر جراثیم لگ جاتے ہیں۔

انسولین اور کچھ انجیکشن والی دواؤں کے لیے بھی الگ ہدایات ہوتی ہیں۔ انہیں مخصوص درجہ حرارت پر رکھنا ضروری ہوتا ہے اور کھولنے کے بعد ان کے استعمال کی مدت محدود ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹرز کا مشورہ ہے کہ دوا استعمال کرنے سے پہلے ہمیشہ اس کے لیبل یا پیکٹ پر دی گئی ہدایات ضرور پڑھیں۔ خاص طور پر آنکھوں کے قطرے، انسولین، لیکویڈ اینٹی بایوٹک اور فریج میں رکھنے والی دواؤں کے معاملے میں زیادہ احتیاط ضروری ہے۔

گھر میں موجود پرانی یا کھلی ہوئی دواؤں کو وقتاً فوقتاً چیک کرتے رہنا چاہیے۔ اگر کسی دوا کے بارے میں یقین نہ ہو کہ وہ اب بھی محفوظ ہے یا نہیں، تو اسے استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایکسپائری ڈیٹ دیکھنا کافی نہیں، کیونکہ کچھ دواؤں کے لیے اصل وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب بوتل یا پیکٹ پہلی بار کھولا جاتا ہے۔ اسی لیے دوا کھولنے کی تاریخ نوٹ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس کی آخری تاریخ دیکھنا۔

اگر کبھی کسی دوا کے بارے میں شک ہو کہ یہ ٹھیک ہے یا نہیں، تو خطرہ مول لینے کے بجائے اسے پھینک دینا ہی سب سے بہتر ہے۔