ڈرونز اور راڈارز پر امریکی حملوں کے بعد ایران کا کویت اور بحرین پر جوابی وار

آبنائے ہرمز میں واقع گورک اور جزیرہ قشم کے نگرانی مراکز کو نشانہ بنایا گیا،امریکی سینٹرل کمانڈ
اپ ڈیٹ 06 جون 2026 09:26am

امریکا کی جانب سے ایرانی ساحلی فوجی تنصیبات، ڈرونز اور راڈارز پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت اور بحرین کی سمت میزائل داغنے اور خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تمام میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق ہفتے کے روز ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی طرف بھیجے گئے چار ڈرون مار گرائے گئے، جس کے بعد امریکی افواج نے ایران کے ساحلی ریڈار اور نگرانی کے مراکز پر حملے کیے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق آبنائے ہرمز میں واقع گورک اور جزیرہ قشم کے نگرانی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج کا خیال ہے کہ ایرانی ڈرون خطے میں بحری آمدورفت کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے گئے۔ ایرانی فورسز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے ان کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرنے والے چار آئل ٹینکروں پر فائرنگ کی گئی۔

کویت کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملکی فضائی دفاعی نظام نے نامعلوم سمت سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائی کی، جبکہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔

ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ چھ میزائل راستے میں تباہ کر دیے گئے جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔

امریکا اور ایران گزشتہ چند ماہ سے جنگ بندی کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد ایک عبوری معاہدہ طے کرنا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات کو بعد کی بات چیت کے لیے چھوڑا جانا تھا، تاہم وقفے وقفے سے ہونے والی فوجی جھڑپوں کے باعث ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے کے لیے اس کے منجمد مالی اثاثوں تک رسائی، تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی، بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ جیسے مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔

جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کر دی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ملک کے اندر بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں کے باعث جنگ ختم کرنے کے لیے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے بیشتر ڈرون اور میزائل سازی کے مراکز تباہ کر دیے گئے ہیں، تاہم ایران کے پاس اب بھی اپنے میزائل ذخیرے کا تقریباً 20 فیصد موجود ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی کافی تعداد میں میزائل اور ڈرون موجود ہیں، اگرچہ یہ تعداد جنگ کے آغاز کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ امن معاہدے کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکا ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے کیے تو اسے ”ایک تاریک راستے“ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔