میچ کی آخری سیٹی پر ارجنٹائن کے کھلاڑی کا اچانک ہسپانوی ٹیم پر حملہ
نیویارک میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں اسپین نے ارجنٹائن کو0-1 سے شکست دے کر دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ اس سنسنی خیز اور سخت مقابلے کا اختتام نہ صرف کھیل کی حد تک جذباتی رہا بلکہ میچ کی آخری سیٹی بجتے ہی میدان میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان کشیدگی اور تلخ کلامی بھی دیکھنے کو ملی۔
رائٹرز کے مطابق میچ کے طے شدہ وقت اور اضافی وقت کے آخری لمحات میں میدان کا ماحول کافی گرم ہو گیا تھا۔ کھیل کے مقررہ 90 منٹ بغیر کسی گول کے برابر رہنے کے بعد میچ اضافی وقت میں داخل ہوا۔ اضافی وقت میں اسپین کے متبادل کھلاڑی فیوران ٹوریس نے شاندار گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائی جو میچ کے اختتام تک برقرار رہی۔ اس گول کے ساتھ ہی اسپین نے فتح پر مہر ثبت کر دی اور اسپین نے سنسنی خیز مقابلے میں ارجنٹینا کو 0-1 سے شکست دے کر دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔
میچ کا فیصلہ اضافی وقت میں ہوا، جہاں اسپین کے متبادل کھلاڑی فیران ٹوریس نے واحد اور فیصلہ کن گول اسکور کیا۔
میچ ختم ہونے کی سیٹی بجتے ہی، جیسے ہی اسپین کے کھلاڑی جیت کا جشن منانے کے لیے میدان میں داخل ہوئے، ارجنٹائن کے مڈفیلڈر لیاندرو پریڈیس نے اسپین کے کھلاڑی گاوی کو دھکا دے کر زمین پر گرا دیا، جس کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑی آمنے سامنے آگئے اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان ہاتھا پائی اور دھکم پیل شروع ہو گئی۔
صورتِ حال مزید خراب ہونے سے پہلے ارجنٹائن کے ہیڈ کوچ لیونیل اسکالونی نے مداخلت کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو پرسکون کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد صورتحال قابو میں آگئی۔
ارجنٹائن کے مڈفیلڈر لیاندرو پریڈیس کے رویے پر سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ رپورٹس کے مطابق، اس واقعے پر لیاندرو پریڈیس کو براہ راست ریڈ کارڈ دکھایا گیا۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین اور بعض مبصرین نے ان کے رویے کو غیر کھیلوں کے جذبے کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی، جبکہ کچھ افراد نے ان پر بین الاقوامی فٹبال سے تاحیات پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

.

.

.

















