ارجنٹائن یا اسپین: فیفا ورلڈ کپ کون جیتے گا؟ پالتو جانوروں کی دلچسپ پیش گوئیاں
فیفا ورلڈ کپ کا فائنل جیسے جیسے قریب آ رہا ہے، شائقین میں جوش و خروش بڑھتا جا رہا ہے۔ فائنل سے قبل جہاں دنیا بھر کے فٹبال ماہرین اسپین اور ارجنٹائن کی طاقت اور کمزوریوں کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ مقابلہ پالتو جانوروں کے درمیان بھی جاری ہے۔ مختلف ممالک کی بلیوں اور کتوں نے اپنے انداز میں پیش گوئیاں کرتے ہوئے یہ بتانا شروع کر دیا ہے کہ ان کے خیال میں عالمی چیمپئن کون بنے گا۔
ورلڈ کپ کی تاریخ میں جانوروں کی پیش گوئیوں کی روایت نئی نہیں۔ 2010 کے ورلڈ کپ میں آکٹوپس پال کی حیران کن پیش گوئیوں نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی تھی۔
اس کے بعد بلیوں، کچھوؤں، اونٹوں اور دیگر جانوروں کو بھی مختلف مقابلوں کے نتائج کی پیش گوئی کرتے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ ان پیش گوئیوں کو تفریح کا حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن شائقین فٹبال انہیں بے حد دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔
اس بار بھی کئی پالتو جانوروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ توجہ ”بگ دی برسلز گرفن“ نامی کتے نے حاصل کی ہے، جس کے مالک اسے ایک ماڈل اور اسپورٹس کمنٹیٹر کہتے ہیں۔
بگ پورے ٹورنامنٹ کے دوران مختلف میچز کے نتائج کی پیش گوئیاں کرتا رہا ہے۔ اس کے سامنے دونوں ٹیموں کی نمائندگی کرنے والی گیندیں رکھی جاتی ہیں جن پر مختلف ملکوں کے جھنڈے لگے ہوتے ہیں اور وہ اپنے پنجے سے ایک گیند کو چھو کر اپنی پسندیدہ ٹیم کا انتخاب کرتا ہے۔ اسے ہی فاتح مانا جاتا ہے۔
فرانس اور انگلینڈ کے درمیان تیسرے نمبر کے میچ سے قبل بگ نے انگلینڈ کی حمایت کی، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ تبصرے کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ ”تھامس ٹوخل کو ہٹا کر بگ کو انگلینڈ کا کوچ بنا دینا چاہیے۔“
تاہم جب فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں ارجنٹائن اور اسپین کے درمیان فاتح کے انتخاب کی باری آئی تو بگ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسپین کی گیند کو منتخب کر لیا، جس کے بعد اسپین کے مداحوں کی خوشی دیدنی تھی۔
دوسری جانب ”بلی ہارٹ نوز“ نامی دو سالہ بلی بھی ورلڈ کپ کی پیش گوئیوں کی وجہ سے انٹرنیٹ پر مقبول ہو رہی ہے۔ اس کی مالک کے مطابق بلی اگرچہ پیش گوئی کرنے میں ابھی نئی ہے لیکن سونے کے معاملے میں مکمل پیشہ ور ہے۔
فائنل کے فاتح کا انتخاب کرتے وقت بلی کچھ لمحوں تک دونوں جھنڈوں کو غور سے دیکھتی رہی، جس پر اس کی مالک نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید وہ گہری سوچ میں ہے یا پھر ورلڈ کپ کی مسلسل پیش گوئیوں سے تھک چکی ہے۔
کچھ مالکان نے اپنے پالتو جانوروں سے پیش گوئی کروانے کے لیے دلچسپ طریقے اپنائے ہیں۔ ”میلو دی اسٹروپ وافل“ نامی ایک اور پالتو جانور کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی، مائلو نامی ایک پالتو جانور کے مالک نے کھانے کی دو پلیٹوں پر اسپین اور ارجنٹائن کے نام لکھے۔
جب مائلو کھانے کے لیے ارجنٹائن والی پلیٹ کی طرف بڑھا تو اس کے مالک نے جان بوجھ کر مداخلت کر دی تاکہ وہ ارجنٹائن کو فاتح نہ منتخب کر سکے۔ اس ویڈیو کو لاکھوں افراد نے پسند کیا اور صارفین نے اسے خوب مزاحیہ قرار دیا۔
اگرچہ یہ تمام پیش گوئیاں صرف تفریح کا حصہ ہیں اور ان کی درستگی کی کوئی ضمانت نہیں، لیکن انہوں نے ورلڈ کپ کے جوش و خروش میں مزید رنگ بھر دیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان ”پاؤ ڈکٹرز“ یعنی پنجوں سے پیش گوئی کرنے والے جانوروں کی رائے درست ثابت ہوتی ہے یا میدان میں موجود کھلاڑی اپنی محنت اور مہارت سے کوئی اور تاریخ رقم کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ماہرین کے تجزیے ہوں یا سوشل میڈیا پر جانوروں کی پیش گوئیاں، اصل فیصلہ تو میدان میں موجود کھلاڑیوں نے ہی کرنا ہے۔
اتوار کی رات نیویارک میں ہونے والے اس بڑے فائنل میں کون سی ٹیم ٹرافی اٹھائے گی، اس کا انحصار کھلاڑیوں کی مہارت، محنت اور ان کے جذبے پر ہوگا۔ جانوروں کی یہ پیش گوئیاں اپنی جگہ، لیکن فٹ بال کے اصلی ہیرو تو وہی کھلاڑی ہوں گے جو میدان میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔















