حوثیوں کی باب المندب اور سعودی عرب کی ناکہ بندی؛ ایران کو کیا فائدہ ہوگا؟
ایران سے قریب سمجھے جانے والے یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے عالمی انرجی مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے، جو پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کس طرح کی جائے گی اور کیا اس میں تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے شامل ہوں گے، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔
یمن بحرِ احمر کے جنوبی راستے باب المندب کے قریب واقع ہے، اور اس اہم راستے کی بندش سے توانائی بحران اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے خلیجی ممالک کے تیل اور دیگر مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے بحرِ احمر ایک انتہائی اہم متبادل راستہ بن چکا ہے۔ اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ کے دونوں بڑے تیل برآمد کرنے والے راستے ایک ساتھ بند ہو جائیں گے۔
پہلے ہی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی سے خلیجی خطے سے تیل کی زیادہ تر برآمدات متاثر ہیں۔
اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے اپنی خام تیل کی 70 فیصد برآمدات بحرِ احمر کی ینبع بندرگاہ کی طرف موڑ رکھی ہیں۔ ینبع سے یورپی ممالک کو جانے والے جہاز نہر سویز کے ذریعے شمال کی طرف اور ایشیا جانے والے جہاز باب المندب سے گزرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جون میں باب المندب کے راستے روزانہ 7.4 ملین بیرل تیل منتقل ہوا جو عالمی پیداوار کا تقریباً سات فیصد ہے۔
یمن میں حوثی تحریک کی شروعات 1990 کی دہائی میں ہوئی اور وہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی عرب کی حمایتی حکومت کے خلاف نبرد آزما ہیں۔
دونوں فریقین کے درمیان 2022 میں ہونے والا معاہدہ قائم تھا، لیکن گزشتہ ہفتے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کی وجہ سے تنازع دوبارہ بڑھ گیا۔
حوثیوں نے اس کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہراتے ہوئے ابہا ایئرپورٹ پر میزائل داغے۔
حوثی سیاسی دفتر کے سینئر رکن محمد الفرح نے ایران کے ’پریس ٹی وی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ ”اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو باب المندب کا راستہ بند کر دیا جائے گا“۔
امریکا کا کہنا ہے کہ ایران حوثیوں کی مالی اور عسکری امداد کرتا ہے، تاہم حوثی اس کی تردید کرتے ہیں اور خود کو مستقل مزاج تحریک قرار دیتے ہیں۔
مارچ کے اوائل میں حوثی قائد عبدالملک الحوثی نے کہا تھا کہ ”اگر حالات تقاضا کریں تو ہماری انگلیاں ہر لمحہ ٹریگر پر ہیں“۔
اس کے علاوہ جون میں ایرانی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے بھی خبردار کیا تھا کہ ”حوثی بحرِ احمر کے راستے کو مسدود کر سکتے ہیں“۔
حوثیوں کے تازہ اعلان کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کے مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔














