پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشیں، 12 افراد جاں بحق 15 زخمی
پنجاب سمیت ملک کے بالائی حصوں بالخصوص خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور ہزاره ڈویژن میں موسلا دھار بارشوں اور سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مختلف حادثات میں بارہ افراد جاں بحق اور پندرہ زخمی ہوگئے، پشاورسمیت کئی اضلاع میں نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، پانی گھروں میں داخل ہوگیا، بجلی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا، بالائی علاقوں میں بھی طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں طوفانی بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ریسکیو حکام کے مطابق سیور کے علاقے میں ایک مکان لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئیں۔
آزاد کشمیر کے رہائشی علاقے قندیل کالونی کی حفاظتی دیوار ٹوٹنے سے قریبی آبادی متاثر ہوئی جبکہ نالہ ماہل کے قریب واقع شیخ بستی کے متعدد گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ باغ کے مرکزی پل کے نیچے قائم کئی دکانیں طغیانی کی نذر ہوگئیں، جبکہ ایک رابطہ سڑک کا حصہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔
گجرات میں موسلا دھار بارش کے بعد شہر ایک بار پھر پانی میں ڈوب گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں 100 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ کچہری چوک، جناح چوک، علی پورہ روڈ، پرنس چوک، جلالپور جٹاں روڈ اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا، جس سے ہر طرف دریاؤں جیسا منظر دکھائی دیا۔ واسا کی مشینری نکاسی آب کے لیے متحرک کردی گئی ہے، تاہم کئی علاقوں میں آمدورفت شدید متاثر رہی۔
منڈی بہاؤالدین شہر اور گردونواح میں گزشتہ چھ گھنٹوں سے وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے جبکہ سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں میں تبدیل ہوگئیں۔ کئی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا، جس سے شہریوں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش کے ساتھ ہی متعدد علاقوں کے بجلی کے فیڈر ٹرپ کر گئے، جس سے بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی۔
اُدھر خیبرپختونخوا کے ضلع ملاکنڈ میں آج دوسرے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آگئی۔ بٹ خیلہ، درگئی، سخاکوٹ اور دیگر علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ شہریوں نے ٹھنڈے موسم پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ادھر پنجاب کے ضلع شیخوپورہ اور اس کے گردونواح میں موسلا دھار بارش سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا۔ بارش کے دوران بجلی کے متعدد فیڈر ٹرپ کر گئے، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ تاہم شدید گرمی سے نڈھال شہریوں نے بارش کے بعد سکھ کا سانس لیا اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوئے۔
ضلع شکر گڑھ میں بھی کرتارپور اور گردونواح میں بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس سے موسم خوشگوار ہوگیا اور گرمی کی شدت کم ہوگئی۔ بارش شروع ہوتے ہی واپڈا کے کئی فیڈر ٹرپ کر گئے، جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کے دوسرے اسپیل کے پیشِ نظر 24 جولائی تک الرٹ جاری ہے اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی ہلکی اور تیز بارش نے موسم کا مزاج بدل دیا۔ مال روڈ، جیل روڈ، فیروزپور روڈ، گڑھی شاہو، ریلوے اسٹیشن اور بادامی باغ سمیت مختلف علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد گرمی اور حبس میں نمایاں کمی آگئی اور شہریوں نے خوشگوار موسم کا خیرمقدم کیا۔
وزیرآباد اور علی پور چٹھہ سمیت مضافاتی علاقوں میں موسلا دھار بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا، تاہم نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے کئی علاقے زیر آب آگئے۔ بارش کے دوران بجلی کے متعدد فیڈر بھی بند ہوگئے، جس سے شہریوں کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔
ملکوال شہر اور گردونواح میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ کئی نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جس سے متاثرہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
ادھر ضلع اٹک اور گردونواح میں گزشتہ 12 گھنٹوں سے مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ موسلا دھار بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جبکہ گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش نے موسم کو خوشگوار بنا دیا اور گرمی کی شدت میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ مون سون بارشوں کا سلسلہ آئندہ چند روز تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور بجلی کے نظام میں خلل کا بھی خدشہ ہے۔
گزشتہ روز مردان میں مکان کی چھت گرنے سے دو بچے زندگی کی بازی ہار گئے اور ان کی ماں اور بہن شدید زخمی ہوئیں، جبکہ لنڈی کوتل میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی گاڑی سے تین افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔ دوسری طرف وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث آنے والی طغیانی نے 25 دکانیں، ایک اسکول اور چھ مکانات تباہ کر دیے جس سے تقریباً 25 ہزار کی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔
شدید بارشوں کے باعث نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک اور صاحبزادہ ٹاؤن میں فلیش فلڈ کی صورتحال پیدا ہو گئی، جہاں ریسکیو 1122 کی واٹر ریسکیو ٹیموں نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے سیلابی ریلے میں محصور 12 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اس کے علاوہ آدم زئی شیٹ گلاس فیکٹری کے قریب پھنسے مزید چھ افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا۔
اس ریسکیو آپریشن کے حوالے سے ریسکیو 1122 نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملک اشفاق حسین نے تمام کارروائی کی خود نگرانی کی، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اعجاز اختر بھی موقع پر موجود رہے۔
ہزارہ ڈویژن اور کاغان ویلی میں بھی طوفانی بارشوں سے تین رابطہ پل بہہ گئے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم راستے بند ہو چکے ہیں جنہیں کھولنے کے لیے بھاری مشینری کام کر رہی ہے۔
ایبٹ آباد میں شاہراہِ ریشم پانی جمع ہونے سے جھیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ضلع ہری پور میں دوڑ ندی میں 13 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ صورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہری پور انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ”برساتی نالوں کے اطراف موجود تمام افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے“۔
یہاں تک کہ اسلام آباد کے ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال ہے۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارتی (این ڈی ایم اے) نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 25 جولائی تک گرمی اور بارشوں کے باعث گلیشیرز پگھلنے کا شدید خدشہ ہے، جس سے ہنزہ، نگر، سکردو، شگر، استور اور دیامر میں سیلاب اور مٹی کے تودے گر سکتے ہیں، جبکہ اپر اور لوئر چترال کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج کے بعد دریائے سندھ میں اٹک کے مقام پر سطح بلند ہو گئی ہے جہاں دریا کی طرف جانے والے راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 24 جولائی تک دریائے چناب، جہلم اور کابل میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔
موسم کی عمومی صورتحال کے مطابق خیبرپختونخوا کے اکثر اضلاع میں مطلع ابر آلود ہے، جہاں پشاور میں درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ اور ہوا میں نمی 82 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ڈیرہ غازی خان میں آندھی اور بارش سے جہاں موسم خوشگوار ہوا وہیں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور مرطوب رہا، جہاں نوکنڈی میں درجہ حرارت 47، سبی میں 45 اور کوئٹہ میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، تاہم قلات، خضدار، ژوب، لورالائی اور بارکھان سمیت چند علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔















