امریکا کا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باوجود کشیدگی کم کرنے کا ارادہ نہیں: ایران

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کو خطے کے لیے خطرناک قرار دے دیا۔
شائع 06 جون 2026 07:39pm

ایران کی وزارت خارجہ نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا نہ صرف کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام کی طرف واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتا بل کہ اپنے جارحانہ اور مہم جوئی پر مبنی اقدامات کے ذریعے پورے خطے کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے ایران کے ساحلی ریڈار اور نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا، جو کہ سِریک ریجن اور قشم جزیرے میں واقع تھے۔ ان حملوں کو تہران نے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اس حوالے سے ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز ایجنسی‘ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ان حملوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور صورتِ حال بگڑنے کا خدشہ موجود ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان کارروائیوں کے تمام نتائج اور اثرات کی مکمل ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔ تہران نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے اقدامات علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔

مزید برآں وزارت خارجہ نے خطے کے تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کی پابندی کریں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی سرزمین اور وسائل کو کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔

دوسری جانب ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان کی ایرو اسپیس فورس نے کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس اور بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کی اہم باقی ماندہ تنصیبات پر بیلسٹک میزائل داغے۔

بیان کے مطابق یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب ہفتے کی صبح چار تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان جہازوں پر امریکی فوج کے اشارے اور رہنمائی کا الزام لگایا گیا۔

پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ان بحری جہازوں نے بار بار وارننگ کے باوجود غیر قانونی طور پر آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں ایک جہاز کو نشانہ بنا کر روک دیا گیا جب کہ باقی جہاز واپس مڑ گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی ڈرونز نے جزیرہ قشم اور سِریک میں واقع مواصلاتی ٹاورز کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کو ایران نے اپنی تنصیبات پر براہ راست جارحیت قرار دیا ہے۔

پاسداران انقلاب کا مزید کہنا تھا کہ امریکی جارحیت کے جواب میں فوری طور پر کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل حملے کیے گئے۔ بیان میں امریکا کو خبردار کیا گیا کہ اگر ایسے اقدامات دوبارہ کیے گئے تو ایران کا ردعمل محدود نہیں رہے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ مستقبل میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کی بندش کی ذمہ داری واشنگٹن پر ہوگی۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کی طرف آنے والے چار ایرانی ڈرونز مار گرائے ہیں اور ایران کے ساحلی ریڈار سسٹمز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔