عام بخار اور ملیریا کے بخار میں کیا فرق ہے؟ علامات جانیے

بخار جسم میں کسی انفیکشن کی علامت ہوتا ہے۔
شائع 25 اپريل 2026 01:10pm

دنیا بھر میں ہر سال 25 اپریل کو ’ورلڈ ملیریا ڈے‘ منایا جاتا ہےتاکہ اس جان لیوا بیماری کے خلاف شعور بیدار کیا جا سکے۔

اس سال ڈاکٹرز نے موسمی تبدیلیوں کے دوران ہونے والے عام بخار اور ملیریا کے درمیان فرق کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، کیونکہ غلط تشخیص علاج میں تاخیر اور پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ، بخار خود ایک بیماری نہیں بلکہ جسم میں کسی انفیکشن کی علامت ہوتا ہے، لیکن اس کی نوعیت مختلف بیماریوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

عام بخار زیادہ تر وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن جیسے نزلہ، زکام یا فلو کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس میں جسم کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور مریض کو جسم میں درد، گلا خراب ہونا، کمزوری اور ہلکی کپکپی جیسی علامات محسوس ہو سکتی ہیں۔

عام طور پر یہ بخار چند دن میں آرام، پانی کی مناسب مقدار اور سادہ ادویات سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔

اس کے برعکس ملیریا بخار ایک خاص جراثیم ”پلازموڈیم“ کی وجہ سے ہوتا ہے جو مچھر کے کاٹنے سے انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس بخار کی خاص علامت اس کا وقفے وقفے سے آنا ہے۔

مریض کو پہلے اچانک تیز بخار ہوتا ہے، پھر شدید کپکپی اور بعد میں پسینہ آ کر بخار کم ہو جاتا ہے، لیکن کچھ دن بعد یہ دوبارہ لوٹ آتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ملیریا میں سر درد، متلی، قے اور شدید تھکن بھی عام علامات ہیں۔ اس بیماری میں مریض کو کچھ وقت کے لیے آرام محسوس ہوتا ہے لیکن پھر بخار دوبارہ شدت سے آ جاتا ہے، جو اسے عام بخار سے مختلف بناتا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق مریض اکثر بخار کے درمیان وقفے میں خود کو نارمل محسوس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ڈاکٹر کے پاس جانے میں تاخیر کر دیتے ہیں۔ یہی تاخیر ملیریا کو خطرناک بنا دیتی ہے۔

ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر بخار دو سے تین دن سے زیادہ برقرار رہے یا بار بار کپکپی اور پسینہ آئے تو فوراً طبی معائنہ کروانا چاہیے۔

ملیریا کی تصدیق کے لیے خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس کے بعد مخصوص ادویات سے علاج کیا جاتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق ملیریا اگر علاج کے بغیر رہ جائے تو یہ جگر، گردوں اور خون کی کمی جیسے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے احتیاط، صاف پانی اور مچھر سے بچاؤ اس بیماری سے حفاظت کے اہم طریقے ہیں۔

یاد رکھیں، عام بخار سادہ ادویات سے ٹھیک ہوسکتا ہے، لیکن ملیریا کے لیے ماہر ڈاکٹر کی تجویز کردہ مخصوص دوا ہی واحد حل ہے۔