امن مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ ہونے کا امکان ہے: یورپی یونین سفیر
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ایران امریکا امن مذاکرات کے حوالے سے یورپی یونین کے سفیر رائمنڈس کرابلس نے بڑی مثبت پیش گوئی کی ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور میں معاہدہ ہونے کا مکان ہے۔
رائمنڈس کرابلس نے آج نیوز کے پروگرام ’روبرو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات کے پہلے راؤنڈ کی ناکامی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ پہلے دور کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، بلکہ ان کے خیال میں مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں فریقین کے درمیان باقاعدہ معاہدہ ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔
انہوں نے پرامید لہجے میں کہا کہ آج یا کل تک ان مذاکرات کے انتہائی مثبت نتائج پوری دنیا کے سامنے آ جائیں گے۔
سفیر رائمنڈس کرابلس نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک اس خطے میں مکمل امن کے خواہاں ہیں۔
تاہم انہوں نے معاملے کی نزاکت اور تاریخی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1979 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس طرح کا باضابطہ رابطہ ہوا ہے، اس لیے دہائیوں پرانی پیچیدگیوں کی وجہ سے فوری طور پر سب کچھ طے ہونا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔
یورپی یونین کے سفیر نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اتنے طویل عرصے کے بعد شروع ہونے والے اس سفارتی عمل کو صرف ایک نشست کی بنیاد پر ناکام قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کا ماننا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے کی تقدیر بدل سکتی ہیں اور عالمی برادری کی نظریں اس وقت پاکستان پر جمی ہوئی ہیں۔
رائمنڈس کرابلس کے مطابق سفارتی محاذ پر ہونے والی اس پیش رفت کے ثمرات جلد ہی سب کو نظر آئیں گے جس سے نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ عالمی امن کو بھی استحکام ملے گا۔















