کراچی:پاک فوج کے جوانوں کا قتل، تحقیقات مشکلات سے دوچار
فائل فوٹوکراچی:کراچی میں پاک فوج کے دو جوانوں کے قتل کی تحقیقات ابتدا میں ہی مشکلات سے دو چار ہوگئیں۔جائے واردات کے قریب پارکنگ پلازہ پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے نمائشی نکلے۔ ملزمان کے روٹ کی مختصر سی سی ٹی وی فوٹیج بھی مددگار ثابت نہیں ہورہی۔
دونوں فوجی جوانوں کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں کردی گئی۔ واردات کا مقدمہ فوجی افسر کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔
گزشتہ روز کراچی میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے دو فوجی اہلکاروں کو آج سپر دخاک کردیا گیا۔لانس نائیک عبدالرزاق چنا کی نماز جنازہ نوشہرو فیروز میں ادا کی گئی اور تدفین مقامی قبرستان میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ کی گئی۔سپاہی خادم حسین ابڑو کی تدفین مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ دادو میں کردی گئی۔جس میں ان کے اہلخانہ سمیت دیگر فوجی اہلکاروں نے شرکت کی۔
واقعے کو چوبیس گھنٹے سے زائد بیت گئے، لیکن دہشت گردوں کا سراغ تک نہیں مل سکا۔تفتیشی اداروں کو تحقیقات میں شروع سے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ پہلا دھچکا اس وقت لگا جب پارکنگ پلازہ پر نصب کیمروں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تومعلوم ہوا کہ اِن کیمروں میں تو ریکارڈنگ کی صلاحیت ہی نہیں،پارکنگ پلازہ پر نصب کیمرے محض نمائش کیلئے ہیں۔
پھر تحقیقاتی اداروں نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا رخ کیا،جہاں سے بہت تلاش کے بعد بمشکل اٹھارہ سیکنڈ کی فوٹیجز حاصل ہوسکیں،جو قریب قائم عمارتوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمراز سے لی گئی تھیں،تحقیقات کے مطابق فوجی گاڑی کا تعاقب کرنے والے دونوں ملزمان سیاہ ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے،البتہ فوٹیج سے پتہ چل گیا کہ حملہ آوروں نےپیپلز سیکریٹرٹ سے گاڑی کا پیچھا شروع کیا۔
ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے گاڑی کی مکمل نگرانی کی ہوئی تھی اور وہ پہلے ہی گاڑی کی آمد کے منتظر تھے۔جائے وقوعہ سے گولیوں کےخول بھی نہیں مل سکے۔دوسری جانب واردات کا مقدمہ فوجی افسر کی مدعیت میں کاؤنٹر ٹیریرزم ڈپارٹمنٹ نے درج کرلیا ہے۔ مقدمہ میں قتل اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئیں ہیں۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔