قطر کے قریب امریکی بحری جہاز پر حملہ، ایرانی میڈیا کا دعویٰ
ایرانی نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر کے ساحلی علاقے کے قریب ایک تجارتی بحری جہاز پر میزائل یا ڈرون سے حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں جہاز پر آگ لگ گئی۔
برطانیہ کے بحری تجارتی آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بڑے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس واقعے کے فوری بعد ایرانی میڈیا کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے کی گئی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس نیوز‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ قطر کے ساحلوں کے قریب جس بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا وہ امریکا کی ملکیت ہے اور اس وقت امریکی پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔
فارس نیوز نے ایک باخبر ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نشانہ بننے والا بحری جہاز امریکی پرچم والا بلک کیریئر تھا اور اس کا تعلق براہ راست امریکا سے ہے۔
ابھی تک اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کو نافذ کرے گا اسے خلیج کے اہم ترین بحری راستے آبنائے ہرمزسے گزرنے میں ’’مشکلات‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایرانی سرکاری ایجنسی تسنیم کے مطابق فوج کے بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران دشمن اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل نہیں کر سکا اور ایران کے سیاسی نظام میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے برعکس ملک کے اندر اتحاد اور یکجہتی مزید مضبوط ہوئی ہے، جس کا اظہار آج بھی عوام کی بڑی تعداد میں سڑکوں پر موجودگی سے ہوتا ہے۔
محمد اکرمی نیا کے مطابق دشمن یہ سمجھ گیا ہے کہ وہ اس مزاحمت کو توڑنے میں ناکام رہا، جس کے بعد اسے بالآخر جنگ بندی قبول کرنا پڑی۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے دوران ایران نے اپنی فوجی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا ہے، اہداف کے ڈیٹا بینک کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے اور دفاعی و حملہ آور پوزیشنز کو بہتر بنایا گیا ہے۔
ایرانی بیان میں واضح طور پر اشارہ دیا گیا ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی پابندیوں یا دباؤ کی صورت میں ایران اپنے اہم بحری راستے پر ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔













