'آئندہ مہم جوئی کی کوشش پر جنگ کے اثرات وسیع اور خطرناک ہوں گے': فیلڈ مارشل کا معرکہ حق کی تقریب میں پیغام
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر دشمن کو پیغام دیا ہے کہ آئندہ مہم جوئی کی کوشش پر جنگ کے اثرات وسیع اور خطرناک ہوں گے۔
راولپنڈی میں معرکہ حق کی شاندار فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر اتوار کو جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمانِ خصوصی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر تھے۔
تقریب میں ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس نے یادگارِ شہدا پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی، جبکہ مسلح افواج کے دستوں نے انہیں سلامی پیش کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کیونکہ معرکہ حق میں بھارت کو ایسا منہ توڑ جواب دیا گیا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے ہمارے قومی عزم اور وقار کو آزمانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اپنی فرسودہ سوچ اور خود فریبی کا شکار ہو گیا۔
فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ بھارت خطے میں بالادستی کے خواب دیکھ رہا تھا مگر وہ یہ بھول گیا کہ اس کے خواب اس کی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ بڑے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ بھارت کے گمراہ کن اور جارحانہ رویے کا تسلسل تھا، جس میں ماضی کے مختلف واقعات اور الزامات کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا کہ معرکہ حق محض دو ممالک یا دو افواج کی روایتی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ دو مختلف نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح نصیب کی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بھارت یہ سمجھتا تھا کہ وہ پاکستان کو عسکری اور سفارتی طور پر تنہا کر دے گا، لیکن اس کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کی افواج نہ پہلے کسی دباؤ سے مرعوب ہوئیں اور نہ آئندہ ہوں گی۔
انہوں نے دشمن کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان کے خلاف آئندہ کسی بھی مہم جوئی کی کوشش کی گئی تو اس بار جنگ کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی وسیع، خطرناک، دوررست اور تکلیف دہ ہوں گے۔“
خطاب میں کہا گیا کہ الحمدللہ پاکستان کا دفاع آج کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہے۔ پاکستان خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی پر کاربند ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن قائم رکھنے کے لیے ہمہ وقت جنگ کے لیے تیار رہنا لازم ہے اور پاکستان کی مسلح افواج روایتی اور غیر روایتی ہر قسم کی جنگ کے لیے مکمل تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کے پیش نظر افواجِ پاکستان کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کیا گیا ہے، جبکہ اسپیس پروگرام کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ آرمی راکٹ فورس کمانڈ اور جدید ہتھیاروں کے حصول سمیت فتح میزائل سیریز اور نئے جنگی جہازوں کی شمولیت اسی دفاعی وژن کا حصہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی تیاری صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں بلکہ اس میں نئی سوچ، جدید تربیت اور تحقیق بھی شامل ہے۔ معرکۂ حق میں حاصل ہونے والی کامیابی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی سفارتی حیثیت کو بھی مثبت طور پر مضبوط کیا ہے۔
دفاعی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے فیلڈ مارشل نے بتایا کہ اعلیٰ جنگی حکمت عملی نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کیا اور فتح میزائل سسٹم اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے 26 سے زائد عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر فضائی معرکوں کی نئی تاریخ رقم کی۔
انہوں نے بحریہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بحری جوانوں نے دشمن کو آبی سرحدوں سے میلوں دور روکے رکھا جبکہ لائن آف کنٹرول پر دشمن سفید جھنڈے لہرانے پر مجبور ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو اس مہم جوئی میں شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
فیلڈ مارشل نے بتایا کہ اب پاکستان نے ملٹی ڈومین آپریشن سینٹر بھی قائم کر دیا ہے تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا بہتر مقابلہ کیا جا سکے۔
فیلڈ مارشل نے قوم، سیاسی قیادت، میڈیا اور نوجوانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دفاعِ وطن کے لیے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی اور نوجوانوں نے جس طرح دشمن کا پروپیگنڈا ناکام بنایا وہ ایک مثال ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کو ایک تاریخی قدم قرار دیا اور کہا کہ آج دنیا پاکستان کو تکریم کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور جو کل تک معترض تھے وہ آج ہماری صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ جو ممالک ماضی میں پاکستان پر اعتراضات کرتے تھے، وہ آج اس کے قریبی شراکت داروں میں شامل ہیں۔
انہوں نے شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے ورثا ہمارے سروں کا تاج ہیں اور پاکستان پہلے بھی ناقابلِ تسخیر تھا اور ہمیشہ ناقابلِ تسخیر رہے گا۔
انہوں نے اس عزم کو بھی دہرایا کہ ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ گذشتہ برس پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری رہنے والی چار روزہ لڑائی کے بعد جنگ بندی کی درخواست بھارت نے کی تھی۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ”انڈیا نے جنگ بندی کی خواہش کا اظہار عالمی اور دیگر بیرونی قوتوں سے کیا۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”شکست خوردہ انڈیا نے امریکا کی سیاسی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے خطے کے وسیع تر امن کی خاطر قبول کیا۔“
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ان تمام شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کے پرچم کی لاج رکھی۔ معرکۂ حق کے تمام شہداء اور ان کے اہلِ خانہ قوم کے لیے قابلِ فخر ہیں، جن کی قربانیاں ہماری آزادی کی ضمانت اور قوم پر ایک دائمی قرض ہیں۔
اس موقع پر غازیوں کو بھی سلام پیش کیا گیا جنہوں نے میدانِ جنگ میں شجاعت اور بہادری کی وہ تاریخ رقم کی جس پر آنے والی نسلیں ہمیشہ فخر کریں گی۔ کہا گیا کہ ہم اپنی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کا احسان، شہداء کی قربانیوں کو امانت اور اپنی طاقت کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، وفاقی کابینہ، قومی و صوبائی سیاسی قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا، جن کی سیاسی بصیرت اور رہنمائی سے پاکستان کو یہ کامیابی حاصل ہوئی۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی نمائندوں نے عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا جبکہ میڈیا، صحافتی برادری اور نوجوانوں نے دشمن کے پروپیگنڈا اور سائبر وارفیئر کو ناکام بنایا۔معرکۂ حق صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر بھی جیتا گیا، جہاں عوام نے غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ جب جنگ کے بادل منڈلائے تو ہر طبقہ فکر نے ’پاکستانیت‘ کے جذبے کے تحت ایک صف میں کھڑے ہو کر دفاع وطن کے لیے کردار ادا کیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ روایتی میدانِ جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت نے اپنی پرانی ریاستی پالیسی کے تحت دہشتگردی کی سرپرستی کا راستہ اپنایا ہے۔ اس نے ایک بار پھر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دہشتگردی نہ صرف بھارت بلکہ افغانستان کی سرزمین سے بھی جاری ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگرد گروہوں، خصوصاً فتنہ خوارج اور فتنہ بھارت کے عناصر سے پاک کرے اور دہشت گردی کے مراکز کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے۔















