امریکا، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان، امریکی اخبار کا دعویٰ
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے،آبنائےہرمز کشیدگی،بحری راستوں کی سیکیورٹی مذاکرات کااہم ایجنڈاہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک ثالثوں کے ذریعے ایک ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کر رہے ہیں، جس کے تحت ابتدائی طور پر ایک ماہ پر محیط مذاکراتی عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا خاتمہ بتایا جا رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مجوزہ مسودے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امور، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران بعض شرائط کے ساتھ اپنی جوہری سرگرمیوں اور یورینیم افزودگی پر لچک دکھانے پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکی حکام چاہتے ہیں کہ تہران یورینیم افزودگی محدود کرے۔ دوسری جانب ایران پابندیوں میں واضح نرمی اور معاشی ریلیف کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اخبار کے مطابق پابندیوں میں ممکنہ نرمی کی حد اب بھی دونوں فریقوں کے درمیان ایک بڑا اختلافی نکتہ ہے، جو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ابتدائی مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو ایک ماہ کی مدت کو باہمی رضامندی سے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائیاں کیں جبکہ آبنائے ہرمز میں عالمی تیل و گیس کی ترسیل بھی متاثر ہوئی۔
بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی عمل میں آئی تھی، تاہم 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کیلئے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق 13 اپریل سے امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری نقل و حرکت کو محدود کرنے کیلئے بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے۔












