ایران جنگ اور ٹرمپ کا غیر متوقع رویہ، امریکا کے دہائیوں پرانے اتحاد میں دراڑ کا بڑا سبب

نیٹو سے خفگی، یورپ سے فوجی انخلا، خلیجی اتحادیوں کو نظر انداز کرنے پر واشنگٹن کے قریبی دوست بھی پریشان
شائع 09 مئ 2026 12:05pm

ایران جنگ کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے امریکا کے دہائیوں پرانے عالمی اتحاد کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلوں اور سخت بیانات کے باعث یورپ، خلیج اور ایشیا میں سفارتی بے چینی بڑھ گئی ہے، جبکہ کئی اتحادی ممالک پہلی بار کھل کر واشنگٹن کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً 10 ہفتوں سے جاری کشیدگی کے باوجود جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اسی دوران صدر ٹرمپ کے اقدامات نے اتحادی ممالک میں عدم اعتماد کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یورپی ممالک میں یہ خدشہ شدت اختیار کر رہا ہے کہ واشنگٹن اب پہلے جیسا قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں رہا، جبکہ خلیجی ریاستیں بھی امریکی پالیسیوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

ایران جنگ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں نے امریکا کے کئی دیرینہ اتحادیوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن اب پہلے جیسا قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں رہا، جبکہ خلیجی اور ایشیائی اتحادی بھی امریکی پالیسیوں سے غیر یقینی صورتحال کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اورایران کے درمیان تقریباً 10 ہفتوں سے جاری کشیدگی کے باوجود جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اسی دوران صدر ٹرمپ کے بیانات اور فیصلوں نے اتحادی ممالک میں بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جرمنی میں تعینات ہزاروں امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا، جبکہ اٹلی اور اسپین سے بھی فوجی موجودگی کم کرنے کے اشارے دیے۔ سیاسی حلقے اس اقدام کو نیٹو پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

یہ کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے۔ واشنگٹن نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ چکا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔

ایران نے جواباً آبنائےہرمز میں نقل و حرکت محدود کر دی، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں۔ یورپی ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار تھے، اس بحران سے شدید متاثر ہوئے۔

امریکی صدر نے خلیجی اتحادی ملک متحدہ عرب امارات پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کو بھی ’’معمولی واقعہ‘‘ قرار دیا، جس پر عرب ممالک میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق خلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ امریکا اپنے مفادات کیلئے کسی بھی وقت نئی ڈیل کر سکتا ہے، چاہے اس کے اتحادی خطرے میں ہی کیوں نہ پڑ جائیں۔

اُدھر یورپ میں بھی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ایک تنقیدی بیان کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے جرمنی میں ٹوماہاک میزائلوں کی تعیناتی روک دی اور 5 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کر دیا۔

ٹرمپ، جو پہلے بھی نیٹو کو ’’بوجھ‘‘ قرار دے چکے ہیں، اب یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ امریکا نیٹو کے مشترکہ دفاعی معاہدے آرٹیکل 5 پر نظرثانی کر سکتا ہے۔ یہ وہ شق ہے جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کے مطابق صدر ٹرمپ اس بات پر ناراض ہیں کہ بعض یورپی ممالک نے ایران جنگ کے دوران امریکی فوج کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک اب امریکا پر انحصار کم کرنے کیلئے مشترکہ دفاعی نظام، نئی اسلحہ سازی اور علاقائی تعاون پر غور کر رہے ہیں۔ کئی یورپی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نیٹو کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

صرف یورپ ہی نہیں بلکہ ایشیا میں بھی ٹرمپ کی پالیسیوں پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کو خوف ہے کہ اگر مستقبل میں چین اور تائیوان کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو امریکا مکمل حمایت سے گریز کر سکتا ہے۔

جاپان کے سابق وزیر خارجہ تاکیشی ایوایا نے خبردار کیا کہ امریکا پر اعتماد مسلسل کم ہو رہا ہے اور اس کے اثرات پورے ایشیائی خطے پر پڑ سکتے ہیں۔

ادھر عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ روس کو ایران جنگ کے باعث تیل و گیس کی بڑھتی قیمتوں سے معاشی فائدہ پہنچا ہے، جبکہ چین خود کو امریکا کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ شاید صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہ رہے، بلکہ یہ عالمی سیاست میں ایک ایسے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے جہاں امریکا کے روایتی اتحادی بھی اب متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہوں گے۔