پاکستانی ہیلی کاپٹر کی کریش لینڈنگ،عملہ طالبان کے پاس ہونیکی تصدیق

شائع 05 اگست 2016 04:17pm
فائل فوٹو فائل فوٹو

کابل :پاکستان کے ہیلی کاپٹر کی افغانستان میں کریش لینڈنگ کے بعد عملہ بدستور طالبان کے پاس یرغمال ہے ۔ سینئر طالبان کمانڈر نے بھی تصدیق کر دی ۔ طالبان کے مطابق پاکستان کو بتا دیا ہے کہ عملہ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان پاکستانی شہریوں کی رہائی کیلئے مذاکرات پر آمادہ ہیں تاہم بڑا مسئلہ روسی شہری کی موجودگی ہے ۔ ادھر حکومت پاکستان بھی عملے کی بحفاظت واپسی کیلئے اعلیٰ سطح پر رابطے کررہی ہے۔پاکستان کے ہیلی کاپٹر نے گزشتہ روز افغان صوبے لوگر میں کریش لینڈنگ کی،جس کے بعد پانچ پاکستانیوں اور ایک روسی شہری کو طالبان نے یرغمال بنا لیا۔

معاملہ حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم ایک روز بعد بھی معاملہ جوں کا توں ہے،پیشرفت صرف یہ ہے کہ سینئر طالبان کمانڈر نے مغوی ان کی تحویل میں ہونے کی تصدیق کی ہے۔

سینئر طالبان کمانڈر کا کہنا ہے کہ مغویوں کا خیال رکھا جا رہا ہے اور وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں،پاکستان کو بتا دیا کہ افغانستان یا امریکی حکام سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔طالبان کمانڈر نے بتایا کہ عملے کی رہائی سے متعلق پاکستانی حکام سے بات چیت جاری ہے۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے پر افغان حکام نے انٹیلی جنس اداروں کی مدد سے طالبان سے رابطہ قائم کر لیا ہے،ذرائع کے مطابق افغان طالبان پاکستانی شہریوں کی رہائی پر تو مذاکرات پر آمادہ ہیں،تاہم بڑا مسئلہ روسی شہری کی موجودگی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ افغان حکومت نے پیشرفت سے پاکستانی سفارتخانے کو آگاہ کر دیا ہے،ادھر وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ افغان حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔مغویوں کی بحفاظت بازیابی کیلئے تمام رسمی اور غیر رسمی کاوشیں جاری ہیں۔

ادھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے معاملے پر افغان صدر اشرف غنی سے تعاون مانگ لیا۔افغان صدر نے بھی مغویوں کی جلد بازیابی کیلئے کاوشیں تیز کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے زوردیا کہ روسی شہری سمیت تمام پاکستانیوں کی جلد بازیابی انتہائی اہم ہے۔

رجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ متعلقہ افغان حکام سے رابطے میں ہے،ذرائع کے مطابق پاکستان نے معاملے پر اعلی سطح کا وفد افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہےجبکہ آرمی چیف کے رابطوں کے بعد افغان حکومت اور امریکی فورسز نے مغویوں کی بازیابی کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

امریکی کمانڈر اور افغان حکومت دو آپشنز پر غور کر رہے ہیں،پہلے آپشن میں طالبان کی مقامی قیادت سے مذاکرات جبکہ دوسرے آپشن کے طور پر نیٹو اور افغان نیشنل آرمی محدود آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔