کراچی میں کال سینٹرز فراڈ کے تانے بانے امریکا تک جا پہنچے

کراچی سے امریکا تک پھیلا ڈیجیٹل فراڈ، گلشنِ اقبال کے کال سینٹر سے اربوں روپے کے عالمی نیٹ ورک کا انکشاف
شائع 11 مئ 2026 09:27am

کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ایک غیر قانونی کال سینٹر پر پڑنے والے چھاپے نے بین الاقوامی سطح پر ہونے والے ایک بڑے مالیاتی فراڈ کا پردہ چاک کر دیا ہے، جس کے تانے بانے امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) کے اربوں روپے کے فراڈ کیس سے جا ملے ہیں۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے گلشنِ اقبال بلاک 4 میں واقع ون ٹین کمیونیکیشنز نامی کال سینٹر پر کارروائی کرتے ہوئے 41 افراد کو حراست میں لیا تھا۔ تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک کال سینٹر نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر بین الاقوامی سائبر فراڈ کا مرکز تھا۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نیٹ ورک کی سربراہی مرتضیٰ حسین عرف ہانی نامی شخص کر رہا ہے، جبکہ چند روز قبل ہونے والی کارروائی میں ہانی کے قریبی ساتھی عمر عرف رابن اور کال سینٹر کے مالکان سنیل سلامت، شین سلیم اور ایرس جاوید کو گرفتار کیا گیا تھا۔

این سی سی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے بیرونِ ملک مقیم افراد کو دھوکہ دہی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیا ہے۔ ان ملزمان کے قبضے سے ملنے والی ٹیمز چیٹس اور خفیہ گروپوں کی گفتگو سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگ باقاعدہ طور پر فراڈ پچنگ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے اور ایک لیک ہونے والی چیٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ ملزمان خود اس بات سے ڈرتے تھے کہ یہ فراڈ پچنگ ان کے مرچنٹ اکاؤنٹس کو تباہ کر دے گی۔

امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے مطابق اس گروہ کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ امریکی شہریوں، بالخصوص بزرگوں اور سابق فوجیوں کو بینک یا سرکاری اہلکار بن کر کال کرتے تھے۔ متاثرین کو قرضے کم کرانے کا جھانسہ دے کر جال میں پھنسایا جاتا تھا اور ان سے ہزاروں ڈالر بطور فیس وصول کر لیے جاتے تھے۔

ملزمان جعلی اسکرپٹس اور سی آر ایم سسٹم کے ذریعے امریکی شہریوں کے سوشل سیکیورٹی نمبر اور بینکنگ تفصیلات حاصل کرتے تھے، جس کے بعد ان کے ساتھ مالی فراڈ کیا جاتا تھا۔

امریکی عدالت نے اس مبینہ فراڈ نیٹ ورک کے تمام اثاثے منجمد کر کے معاملات عدالتی نگران کے سپرد کر دیے ہیں۔

کراچی میں درج ایف آئی آر نمبر 28/2026 کے مطابق ملزمان غیر ملکی شہریوں کا چوری شدہ ڈیٹا استعمال کر کے مالیاتی فراڈ میں ملوث تھے۔

چھاپے کے دوران ڈیجیٹل آلات، موبائل فونز اور دیگر شواہد قبضے میں لے کر فارنزک تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔

کراچی سے امریکا تک پھیلے اس کال سینٹر مافیا کے بین الاقوامی روابط سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس نیٹ ورک میں شامل دیگر اہم کرداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔