چار سو اسی ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی معمہ بن گئی
اسلام آباد:دوہزار تیرہ میں چار سو اسی ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی معمہ بن گئی، وزارت خزانہ نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو اس بارے میں بحث کرنے سے روک دیا۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں دوہزارتیرہ میں پاور سیکٹرکے گردشی قرضوں کی کلئیرنس کے لیے چار سو اسی ارب روپے کی متنازع ادائیگی بھی ایجنڈا میں شامل تھی۔ اس ادائیگی کو اکاوٴنٹنٹ جنرل آف پاکستان خلاف ضابطہ قرار دے چکا ہے۔ کیونکہ اس مد میں اکاوٴنٹنٹ جنرل آف پاکستان کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک سے بھی ادائیگی کی گئی جو کسی بھی حکومتی ادائیگی کا مجازنہیں۔
سینیٹرسلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں کمیٹی نے اسٹیٹ بینک حکام سے ادائیگی کی تفصیلات طلب کیں۔ کمیٹی ممبران اس وقت شدد رہ گئے جب ایک نوٹس کے زریعے وزات خزانہ نے اس معاملے کو سرے سے ایجنڈے سے ہی نکالنے کے احکامات صادر کردیے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔