بنی گالہ اراضی بے نامی ہو بھی تو اصل مالک جمائما تھی،چیف جسٹس

شائع 03 اکتوبر 2017 04:20pm
فائل فوٹو فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنی گالہ اراضی بے نامی ہو بھی تو  اصل مالک جمائما تھی،صرف ساڑھے 6فیصد رقم کی ٹریل ثابت نہیں ہوئی۔

منگل کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے سربراہ پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف مسلم لیگ نون کے حنیف عباسی کے مقدمہ پر سماعت کی ۔

 درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے جوابی دلائل میں کہاکہ عمران خان نے آمدن 21ملین بتائی جبکہ بنی گالہ جائیداد پر خرچ 70 ملین ہے ، ان کی آفشور کمپنی نیازی سروسز والا اثاثہ انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہیں کی، جمائما سے قرض لینا اور واپسی میں ایک لاکھ اسی ہزار ڈالرز اضافی دینا بھی ریکارڈ پر نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ دیکھنا ہے کہ جائیداد ظاہر کرنا لیکن قرض ظاہر نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے ،قرض کی صرف ساڑھے 6فیصد رقم اور نیازی سروسز کے ایک لاکھ ڈالر ثابت نہیں ہورہے، دیکھنا ہے کہ بے ایمانی یا منی لانڈرنگ ہوئی یا نہیں ، آف شور کمپنی کے ایک لاکھ پاؤنڈ ، الیکشن 2002ء میں ظاہر نہیں ہوئے ۔

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری تاخیر سے پہنچے تو چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ اکرم شیخ نے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

 نعیم بخاری نے کہاکہ جمائما نے ساڑھے 5لاکھ ڈالرز سے زائد رقم کے نئے دستاویز بھیجے ہیں ، یہ کل پیش ہوجائیں گے، نیازی سروسز کو 3دیگر کمپنیاں بھی چلا رہی تھیں ۔

اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان پہلے آف شور کمپنی اور پھر اہلیہ کے پیچھے چھپے ، وہ مرد بنیں اور سینہ تان کر کہیں کہ بنی گالہ والی اراضی خود خریدی ۔

 پھر چیف جسٹس نے زیر سماعت مقدمہ میں عمران خان کی اہلیت والے معاملے کی سماعت مکمل ہونے کا اعلان کیا اور کہاکہ فیصلہ محفوظ نہیں کیا جارہا ، مزید کوئی سوال اٹھا تو عدالت یہ پوچھ لے گی ، بدھ سے جہانگیرترین کے معاملہ کی سماعت ہوگی ۔

اکرم شیخ کا کہناتھاکہ قانون کے مطابق عدالت فیصلہ محفوظ کرکے بھی مزید انکوائری کرسکتی ہے ۔