امریکی عملے نے واپس روانگی سے پہلے چینی حکام کی جانب سے دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیمروں کے سامنے تو دونوں رہنماؤں کا رویہ انتہائی خوشگوار رہا، لیکن پردے کے پیچھے امریکی اور چینی سیکیورٹی ٹیموں اور صحافیوں کے درمیان شدید تلخی دیکھی گئی۔
جمعہ کے روز بیجنگ سے روانگی کے وقت امریکی عملے نے ایک سخت فیصلہ کیا جس کے تحت چین کی طرف سے دی گئی تمام چیزوں کو جہاز میں لے جانے پر پابندی لگا دی گئی۔
صدارتی طیارے ایئرفورس ون پر سوار ہونے سے پہلے امریکی حکام اور وہاں موجود صحافیوں کو دی جانے والی ہر چیز بشمول پریس کارڈز، عارضی موبائل فونز اور بیجز لے کر طیارے کی سیڑھیوں کے پاس ہی کچرے کے ڈبے میں پھینک دیے گئے۔
نیویارک پوسٹ کی وائٹ ہاؤس کراسپونڈنٹ ایملی گوڈن نے سوشل میڈیا پر اس منظر کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا کہ امریکی عملے نے چینی حکام کی طرف سے دی گئی ہر چیز واپس لے لی۔
انہوں نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے عملے کو دیے گئے عارضی فون، وفد کے لیے مخصوص پن اور صحافیوں کے کارڈز ایئرفورس ون پر سوار ہونے سے پہلے جمع کیے گئے اور سیڑھیوں کے نیچے موجود کچرے کے ڈبے میں ڈال دیے گئے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ چین کی کوئی بھی چیز طیارے کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وائٹ ہاؤس کے صحافیوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جاسوسی کے خدشات کے پیش نظر یہ تمام اشیاء جہاز سے باہر ہی تلف کر دی گئیں۔
صدر ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران بھی سیکیورٹی کے معاملات پر دونوں ملکوں کے حکام کئی بار آمنے سامنے آئے۔
بیجنگ کے مشہور ’ٹیمپل آف ہیون‘ میں جب صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات ہو رہی تھی، تو امریکی صدر کی حفاظت پر مامور سیکرٹ سروس کے ایک ایجنٹ کو اندر جانے سے روک دیا گیا کیونکہ اس کے پاس اسلحہ موجود تھا۔
امریکی پروٹوکول کے مطابق صدر کی حفاظت کرنے والے اہلکاروں کا مسلح ہونا لازمی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں بدمزگی پیدا ہوئی۔
اس کے علاوہ بیجنگ سے واپسی پر چینی حکام نے امریکی صحافیوں کو صدر کے قافلے کے ساتھ جانے سے روک دیا، جس پر وہاں موجود امریکی معاونین کو چینی سیکیورٹی سے زبردستی راستہ بنانا پڑا تاکہ صحافی وقت پر پہنچ سکیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب چین اور امریکا کے صدارتی دوروں کے دوران اس طرح کی تلخی دیکھنے کو ملی ہو۔
اس سے قبل 2016 میں جب سابق امریکی صدر براک اوباما جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس کے لیے چین کے شہر ہانگژو پہنچے تھے، تب بھی امریکی اور چینی عملے کے درمیان اس بات پر شدید تکرار ہوئی تھی کہ صدر اوباما کے ساتھ کتنے امریکی حکام کو صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے کمرے میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔
موجودہ دورے کی یہ تلخیاں ظاہر کرتی ہیں کہ بظاہر دوستانہ ملاقاتوں کے پیچھے دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان سیکیورٹی اور سفارتی سطح پر اب بھی شدید دباؤ اور بے اعتمادی موجود ہے۔













