اسرائیلی فوج کا حماس کے سینئر عسکری رہنما عزالدین الحداد کو شہید کرنے کا دعویٰ

اسرائیل نے الزام عائد کیا کہ عزالدین الحداد 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے معماروں میں سے ایک تھے
شائع 16 مئ 2026 09:24am

اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں حماس کے ایک سینیئر اور اہم عسکری رہنما عزالدین الحداد کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ کارروائی حماس کے سینئر ترین فوجی رہنما کے خلاف کی گئی تھی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق غزہ کی ایمرجنسی سروسز نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 7 افراد جاں بحق جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے غزہ کے الشفا اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ عزالدین الحداد بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں یا نہیں۔

اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ عزالدین الحداد 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے معماروں میں سے ایک تھے اور حملے کے بعد یرغمالیوں کو رکھنے کے بھی ذمہ دار تھے۔

ایک سینئر اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق عزالدین الحداد کو ہدف بنانے کی کارروائی کامیاب رہی۔ تاہم حماس نے فوری طور پر اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا جبکہ امریکی نشریاتی ادارہ سی این این بھی آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کرسکا کہ الحداد حملے میں مارے گئے یا زخمی ہوئے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق الحداد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ہونے والے اس معاہدے پر عمل درآمد سے بھی انکار کیا تھا، جس میں حماس کے غیر مسلح ہونے اور غزہ کی غیر عسکری حیثیت کا مطالبہ شامل تھا۔

غزہ کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق اسرائیل نے جمعے کی سہ پہر غزہ سٹی کے علاقے الرمل میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے بعد قریبی سڑک پر موجود ایک گاڑی پر دوسرا حملہ کیا گیا۔

 اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد غزہ سٹی میں رہائشی اپارٹمنٹ میں آگ بھڑک اٹھی/ تصویر رائٹرز
اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد غزہ سٹی میں رہائشی اپارٹمنٹ میں آگ بھڑک اٹھی/ تصویر رائٹرز

غزہ سٹی کے الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ اسپتال، جو علاقے کے مردہ خانے کے طور پر بھی استعمال ہو رہا ہے، اب تک حملوں میں جاں بحق ہونے والے 7 افراد کی لاشیں وصول کرچکا ہے، جن میں 3 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔

فلسطینی ہلالِ احمر کے طبی عملے نے دونوں حملوں کے مقامات پر امدادی کارروائیاں کیں اور تقریباً 30 زخمیوں کو السرایا فیلڈ اسپتال منتقل کیا۔

تصویر/ رائٹرز
تصویر/ رائٹرز

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اکتوبر سے غزہ میں بظاہر جنگ بندی نافذ ہے۔

اسرائیل اس دوران بھی غزہ میں حملے کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں حماس یا اسرائیلی افواج کو لاحق ممکنہ خطرات کے خلاف کی جا رہی ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج غزہ کے تباہ حال علاقے کے نصف سے زیادہ حصے پر قابض ہے۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر کے وسط میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 850 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔